نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

ایران و امریکہ کے درمیان تفاهم میں کارشکنی پر چین کا اسرائیل کو انتباہ

نگاه نو- چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کو ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے ہشدار دیا ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقائی امن کی حمایت اور مستقبل میں ہونے والی مذاکرات کے لیے مناسب حالات پیدا کرنے کے عملی اقدامات کریں۔

پکن نے جمعرات کو اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے علاقے میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

“لین جیان”، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان، نے اس معاہدے کے پہلے مرحلے اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے بارے میں خدشات کے جواب میں کہا:
“اس حساس مرحلے میں، متعلقہ فریقین، بشمول اسرائیل، کو علاقے میں امن و استحکام کے غالب رجحان کی پیروی کرنی چاہیے اور کسی اور قسم کے اقدامات کرنے کی بجائے ایران اور امریکہ کو اس معاہدے پر عمل درآمد اور دوسرے مرحلے کی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد کرنی چاہیے۔”

ان ترجمانی اظہار کے ساتھ ہی اسرائیلی رژیم کے جنوبی لبنان پر حملے جاری ہیں۔ یہ حملے امریکہ کی گرین سگنل کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔

اس چینی سفارت کار نے پکن اور تہران کے تعلقات کی اسٹریٹجک نوعیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کو دیرینہ شراکت دار قرار دیا جو تعاون کو گہرا کرنے کے پابند ہیں۔

انہوں نے کہا:
“چین بطور ایران کے جامع اسٹریٹجک پارٹنر، ایران کے ساتھ دو طرفہ سیاسی اعتماد کو مستحکم اور گہرا کرنے، مختلف شعبوں میں باہمی مفید تعاون کو بڑھانے اور چین اور ایران کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔”

پکن کے ان بیانات سے ایران اور امریکہ کے مفاہمتی یادداشت کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت اور اسرائیلی رژیم کی جانب سے اس پر عمل درآمد کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مزاحمت کا اظہار ہوتا ہے۔

یہ ۱۴ مادوں پر مشتمل مفاہمتی مسودہ، جو جمعرات کے اوائل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےآن لائن دستخط کیے تھے، تمام محاذوں بشمول لبنان پر دشمنیوں کے مستقل خاتمے، تیل کی برآمدات میں چھوٹ، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ۳۰ دنوں کے اندر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس معاہدے میں ایران کے لیے کم از کم ۳۰۰ بلین ڈالر کی اقتصادی تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبہ، امریکی پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عہد کی تجدید بھی شامل ہے۔

Leave a Comment