نگاه نو- امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیوڈ ونس نے منگل کی صبح ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ سمجھوتے کے مطابق ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کر دیا جائے گا۔
ونس نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “جنگ ختم کرنے والے سمجھوتے کی شرائط کے تحت، ایٹمی معائنہ کاروں کو ایران واپس جانا ہو گا۔”
انہوں نے مزید کہا: “بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور واشنگٹن ایران کی مدد کریں گے تاکہ وہ اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کر سکے۔”
اس امریکی اہلکار نے یہ بھی بتایا: “قطر اور پاکستان نے ایران کے ساتھ اس سمجھوتے تک پہنچنے میں ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔”
ونس نے وضاحت کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا تفاہم نامہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا، کیونکہ اس میں کچھ تکنیکی تفصیلات ہیں جنہیں حل کرنا باقی ہے۔
انہوں نے اس بارے میں کہا کہ جن تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ تفاہم نامے کے متن سے متعلق نہیں، بلکہ اس پر عملدرآمد سے متعلق ہیں۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا: “اگر ایران اپنی وعدوں پر عمل کرتا ہے تو اسے اس کا فائدہ ہو گا، اور یہی وہ چیز ہے جو ہم چاہتے ہیں۔”

