نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

شہباز شریف: میزائل کا معاملہ حالیہ معاہدوں میں شامل نہیں تھا

نگاه نو- وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کا موضوع ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کبھی زیرِ بحث نہیں آیا اور مفاہمت کی یادداشت کے متن میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، اور اس سلسلے میں کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم صدر محترم اور ہمراہ ایرانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جناب پزشکیان آپ ایک عالم صدراورمعالج ہیں۔ آپ اور ٹرمپ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط امن کے لیے ایک شاندار موقع تھا جو پاکستان کی ثالثی سے عمل میں آیا۔

انہوں نے مزید کہا: میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو سراہتا ہوں جنہوں نے مشکل حالات میں اپنے ملک کی بہترین انداز میں رہنمائی کی۔ ایران کے عوام نے پورے تنازع کے دوران اپنا کردار بخوبی ادا کیا اور ہم اس عوامی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت انتہائی افسوس ناک تھی اور تمام اسلامی اقوام کے لیے وہ قابلِ احترام تھے۔ ایران کا غم، پاکستان کی قوم کا غم ہے۔ آپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔ جناب پزشکیان کی دعوت پر اگلے ہفتے میں ایران کا دورہ کروں گا، پاکستان اور ایران زندہ باد۔

انہوں نے کہا: میں امیر قطر کا ان کے معاون کردار پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ محمد بن سلمان، رجب طیب اردوغان اور عبدالفتاح السیسی کا بھی میں شکرگزار ہوں۔

انہوں نے مزید کہا: اس اجلاس میں میں نے پاکستانی عوام کو مبارکباد دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم ایک سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر کے ایک اہم کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، اس طرح کہ یہ دستاویز اسلام آباد، تہران اور دیگر فریقین کے کردار کے ساتھ طے پائی۔

انہوں نے کہا: میں نے مسعود پزشکیان کو پارلیمان پاکستان میں شرکت کی دعوت دی اور ان کے دورے کے بعد پاکستانی عوام نے ایرانی وفد کا نہایت خلوص دل سے استقبال کیا۔

اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے بیلسٹک میزائلوں کے موضوع کا ذکر کرتے ہوئے کہا: بیلسٹک میزائلوں کا موضوع کبھی ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی مفاہمت کی یادداشت کے متن میں اس کا کوئی ذکر ہے، اور اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا: اگر ایران بحیثیت ہمسایہ ملک دفاعی مقاصد کے لیے میزائل کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ ایک فطری امر ہے، کیونکہ دنیا میں بہت سے ممالک ایسی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور یہ بات اعتراض کا باعث نہیں بن سکتی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ میزائل کا معاملہ حالیہ معاہدوں میں شامل نہیں تھا، وضاحت کی: کچھ ممالک ان معاہدوں کے قیام سے ناخوش ہیں اور اس راستے میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور پاکستان پختہ عزم کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور امن و استحکام کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا: کچھ ممالک جو اس معاہدے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایران اور دیگر فریقین کے درمیان تعلقات کی پیشرفت سے ناراض ہیں، لیکن ہم اور میرے عزیز بھائی جناب پزشکیان ان کوششوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔

Leave a Comment