نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں حملہ، سپاہ بحریہ کا جوابی کارروائی کا اعلان

نگاه نو- شہر سیریک کے اطراف سے کئی دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے۔
مقامی باشندوں نے بھی دھماکوں کی آواز سنے جانے کی تصدیق کی ہے۔

سینٹ کام نے باضابطہ طور پر ایران کے اندر اہداف پر حملے کی تائید کر دی۔

اس سلسلے میں ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں حملے کیے ہیں۔
دہشت گرد تنظیم سینٹ کام نے بھی اعلان کیا کہ آج اس نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے ٹھکانوں اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو اپنی حملوں کا نشانہ بنایا۔

اس تنظیم کے دعوے کے مطابق یہ اقدام 25 جون کو ایران کے سنگاپور کے جھنڈے والے مال بردار جہاز “ایور لاولی” پر ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا، جو آبنائے ہرمز سے عمان کے ساحل کے ساتھ باہر نکل رہا تھا۔

سینٹ کام نے الزام لگایا کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

سیریک میں دو میزائلوں کے ایک ٹاور کو لگنے کی اطلاع

سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک آگاہ ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سیریک کی حدود میں دو میزائل ایک مواصلاتی ٹاور کو لگے ہیں۔

حمیدرضا محمد حسینی تختی نے کہا: بندرگاہ سیریک کا معمول کا کام جاری ہے اور گزشتہ گھنٹوں میں اس کے آلات اور احاطے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا: بندرگاہ سیریک کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

سپاہ کی بحری فوج نے امریکی جارحیت اور عہد شکنی کا جواب دیا

امریکہ کے جارحانہ اقدام کے دوران سپاہ کی بحری فوج نے علاقے میں امریکی دہشت گرد فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

سپاہ کے بیان میں کہا گیا ہے: “جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد، چند گھنٹے قبل عہد شکن امریکی حکومت نے بھی ہمیشہ کی طرح اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی اور مختلف بہانوں سے آبنائے ہرمز میں ایک متخلف جہاز کی غیر مجاز راستے سے آمد و رفت کو بہانہ بنا کر جمہوریہ اسلامی ایران کے ساحلوں پر فضائی حملہ کیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی بحری فوج نے اس جارحیت کے جواب میں علاقے میں امریکی دہشت گرد فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بند 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے کنٹرول کے انتظامات کا تعلق جمہوریہ اسلامی ایران سے ہے، لیکن امریکہ نے مختلف حلقوں کو اکسانے کے ذریعے اس ذمہ داری کی خلاف ورزی کی کوشش کی، جس کا ضروری جواب دیا گیا اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر جارحیت دوبارہ ہوئی تو ہمارا جواب اس سے وسیع تر ہوگا۔”

Leave a Comment