نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

امریکہ کا آبنائے ہرمز میں اہداف پر حملے کا اعتراف

نگاه نو- دہشت گرد تنظیم سینٹ کام نے ایک بیان میں ایران پر “جنگ بندی کی خلاف ورزی” کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

سینٹ کام نے اعلان کیا کہ آج اس نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے ٹھکانوں اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو اپنی حملوں کا نشانہ بنایا۔

اس تنظیم کے دعوے کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو ایران کے سنگاپور کے جھنڈے والے مال بردار جہاز “ایور لاولی” (M/V Ever Lovely) پر ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جو آبنائے ہرمز سے عمان کے ساحل کے ساتھ باہر نکل رہا تھا۔ سینٹ کام نے الزام لگایا کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل جمہوریہ اسلامی ایران کے ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی تھی کہ ملک کے جنوب میں ضلع سیریک کی سمندری گھاٹ طاہریہ پر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

یہ دھماکے کی آواز اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی طرف چار ڈرون فائر کیے ہیں۔

انہوں نے لکھا: “جمہوریہ اسلامی ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی طرف کم از کم چار ‘یک طرفہ حملہ آور ڈرون’ فائر کیے۔ ایک ڈرون ایک بہت مہنگے مال بردار جہاز کے بالائی عرشے سے زوردار ٹکرایا۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا: “نقصان ہوا لیکن جہاز اپنا راستہ جاری رکھ سکا۔ ہم نے باقی تین ڈرون مار گرائے۔ واضح ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔”

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ پر الزام ہے کہ اس نے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس شق کے تحت امریکہ تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کا پابند ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کے جامع حملے ابھی تک جاری ہیں۔

Leave a Comment