نگاه نو
اخبار مهمجنگ رمضان

عراق کی سرزمین پر رہبرشہید کی وداعی کمیٹی کی کارروائیاں

نگاه نو- قومی وداعی و تشییع ستاد کے سیکرٹری نے بتایا کہ عراق کے وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس تاریخی تقریب کے انعقاد کی ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی پارلیمنٹ کے ایک سو بیس سے زائد اراکین، عتبات عالیات، اربعین ستاد، مرجعیت اور علماء کرام نے بھی اس مراسم میں شرکت اور انعقاد کی بھرپور خواہش ظاہر کی ہے۔

پورجمشیدیان نے آج رات کے خصوصی نیوز پروگرام میں رہبرشہید کے وداعی و تشییع مراسم کی تازہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کی صبح چھ بجے سے امام خمینی (رح) کی مصلیٰ کے دروازے رہبرشہید کے پاکیزہ پیکر اور ان کے محترم خاندان سے وداع کے خواہشمند عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے۔

پچیس سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکام کی شرکت

انہوں نے مزید بتایا کہ غیرملکی حکام کے لیے رسمی خراج تحسین کی تقریب جمعہ کو منعقد ہوگی اور اب تک پچیس سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکام کی شرکت حتمی ہو چکی ہے۔ قومی وداعی و تشییع ستاد کے سیکرٹری کے مطابق، مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، پارلیمانی اسپیکرز، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکاری حکام کے علاوہ دنیا بھر سے نوے سے زائد ممالک کے علماء، مذہبی رہنما، سائنسدان اور متعدد اسلامی و انقلابی تحریکوں کی معروف شخصیات بھی شہید رہنما کے پیکر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس رسمی تقریب میں شریک ہوں گی۔

مصلیٰ تہران، عوام کی میزبانی کے لیے تیار

پورجمشیدیان نے مصلیٰ امام خمینی کی تیاریوں کی تازہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مصلیٰ کی تعمیراتی منصوبے ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن جب سے ستاد نے اس مقام پر مراسم منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تمام متعلقہ ادارے بشمول تہران کی گورنری، بلدیہ، وزارت توانائی، سپاہ پاسداران انقلاب، بسیج اور دیگر تنظیموں نے جہادی انداز میں کام شروع کر دیا ہے۔

وزیر داخلہ کے قائم مقام نے مزید کہا کہ معائنے کے دوران تیاری کا عمل تسلی بخش پایا گیا اور موصولہ رپورٹس کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مقابلے میں کوئی تاخیر نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل صبح وہ صدر کے نائب اول اور ستاد کے سربراہ کے ہمراہ مصلیٰ کا دورہ کریں گے، اب تک کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے اور اگر معمولی کام باقی ہیں تو اگلے دو دنوں میں مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ مصلیٰ عوام کی آمد کے لیے مکمل تیار ہو۔

عراقی عوام اور حکام کی جانب سے بھرپور استقبال

پورجمشیدیان نے عراق میں متوقع پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تشییع کے پروگراموں کا اعلان ہوتے ہی عراقی عوام کی جانب سے بے پناہ استقبال کیا گیا۔ ایک لاکھ سے زائد افراد نے مراسم میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کروائی اور عراق کے بعض چھوٹے شہروں نے ایران بھیجنے کے لیے سو سے زائد بسوں کا انتظام کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی عوام، حکام اور اداروں کی جانب سے عراق میں تشییع مراسم کے انعقاد کی متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

قومی وداعی و تشییع ستاد کے سیکرٹری نے وضاحت کی کہ عراقی پارلیمنٹ کے ایک سو بیس اراکین کے دستخطوں پر مشتمل ایک رسمی خط، نیز عتبات عالیات، اربعین ستاد، مرجعیت اور عراقی علماء کی جانب سے درخواست موصول ہوئی جس کے بعد بیت معظم رہبر انقلاب سے اس سلسلے میں اجازت طلب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بیت شریف کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ مراسم منعقد ہوں گے، خاص طور پر اس لیے کہ رہبرشہید نے اپنی حیات میں کربلا اور امیرالمومنین (ع) کے حرم کی زیارت کی خواہش ظاہر کی تھی جو انہیں میسر نہ ہو سکی۔

عراقی حکومت کا باقاعدہ استقبالیہ پروگرام

پورجمشیدیان نے بتایا کہ عراقی حکومت نے اس مراسم کے انعقاد کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر ایک ستاد تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی وزیراعظم خود کر رہے ہیں اور ان کے دفتر کے سربراہ اس کے ذمہ دار ہیں، جبکہ عراق کے اعلیٰ فوجی حکام اور اربعین ستاد کے عہدیداران بھی اس کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طے شدہ منصوبے کے مطابق رہبرشہید کا پیکر اور ان کا محترم خاندان، ستارہ جولائی کو عراق منتقل کیا جائے گا جہاں طواف کے علاوہ نجف اشرف اور کربلائے معلی میں بھی تشییع کی تقریبات منعقد ہوں گی۔

قومی ستاد کے سیکرٹری نے کہا کہ لبنان اور دیگر اسلامی ممالک سے بھی بہت سے افراد نے عراق میں تشییع مراسم میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عراقی حکومت نے بغداد یا نجف کے کسی ایک ہوائی اڈے پر وزیراعظم، فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں رہبرشہید کے پیکر کا رسمی استقبالیہ پروگرام بھی ترتیب دیا ہے، جسے عراقی حکام اپنے لیے باعثِ فخر اور کرامت سمجھتے ہیں اور بھرپور جوش و خروش سے اس کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

زائرین کے لیے بڑے پارکنگ ایریاز اور زائر شہروں کا انتظام

پورجمشیدیان نے تشییع مراسم میں عوام کی کثیر تعداد کی شرکت کے لیے کی گئی ترتیبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو زائرین زائر سراؤں اور زائر شہروں میں قیام کریں گے، ان کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے تمام گاڑیوں اور بسوں کا تہران میں داخل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے داخلی راستوں پر بڑے پارکنگ ایریاز بنائے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک میں بیس ہزار سے زائد گاڑیوں کی گنجائش ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اپنی گاڑیاں ان پارکنگ میں چھوڑ کر مراسم کے مقام تک پہنچنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔

قومی ستاد کے سیکرٹری نے بتایا کہ مصلیٰ تہران کے ارد گرد بڑے زائر شہر بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں لاکھوں زائرین کی گنجائش ہے اور ہر زائر شہر میں درجنوں موکب لگائے جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان مراکز میں پانی، کھانا، آرام، عارضی قیام، صحت کی سہولیات اور دیگر ضروری خدمات فراہم کی گئی ہیں۔

تہران میں تیس لاکھ سے زائد افراد کے قیام کا انتظام

پورجمشیدیان نے کہا کہ زائرین کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں۔ اسکولوں، امام بارگاہوں، مساجد، تکایا اور یونیورسٹیوں کو زائرین کی میزبانی کے لیے تیار کیا گیا ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تہران شہر میں تیس لاکھ سے زائد افراد کے قیام کی گنجائش فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلال احمر نے مختلف مقامات بشمول پارکوں میں تین لاکھ سے زائد خیمے بھی لگائے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر زائرین کو فراہم کیے جا سکیں۔

رہبرشہید کے پیکرِ مطہر پر ایک مرجعِ دین کی امامت میں نمازِ وداع 

پورجمشیدیان نے رہبرشہید کے پیکر پر نماز کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہرہبرشہید اور ان کے خاندان پر نماز دوسرے روز کسی ایک مرجع تقلید کی جانب سے پڑھائی جائے گی۔

کوئی بھی مہمان کے بغیر قیام نہیں رہے گا

وزیر داخلہ کے قائم مقام نے اس مراسم کے عوامی ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابتدا ہی اعلان کیا تھا کہ یہ مراسم عوام کی شرکت پر مبنی ہیں اور زائرین کے قیام کا ایک بڑا حصہ شہریوں کے تعاون سے انجام پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے عوام ہمیشہ مہمان نوازی، خلوص اور دیانت کے لیے مشہور رہے ہیں اور مہمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد تہران کے شہریوں کے گھروں میں قیام کرے گی۔ پورجمشیدیان نے واضح کیا کہ میزبانی کے لیے تمام عوامی ظرفیتیں بروئے کار آ گئی ہیں اور یقینی طور پر کوئی بھی مہمان بغیر قیام کے نہیں رہے گا اور تہران کے عزیز شہری رہبرشہید کے زائرین کی پذیرائی کریں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی تاکید

قومی وداعی و تشییع ستاد کے سیکرٹری نے آخر میں زائرین سے درخواست کی کہ وہ اپنی ذاتی گاڑیاں تہران کے داخلی راستوں پر موجود پارکنگ میں پارک کریں اور مراسم میں شرکت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ پورجمشیدیان نے تاکید کی کہ تہران بلدیہ نے بسوں، میٹرو اور وین گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر اور مفت میں زائرین کی نقل و حمل کے لیے ترتیب دیا ہے، اور ان وسائل کا استعمال آمدورفت میں آسانی اور ٹریفک کے مسائل کو کم کرے گا۔

Leave a Comment