نگاه نو- سی این این نیوز نیٹ ورک نے جمعرات کی صبح ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی رک گئی ہے۔
اس نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع نے وضاحت کی: “امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف حملوں کے تازہ ترین دور میں حصہ لیا۔”
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا: “آج رات کے حملوں میں ایسے میزائل شامل تھے جو امریکی اثاثوں کے خلاف استعمال ہو سکتے تھے۔”
سی این این نے اس امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی: “ایران کے ساتھ صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے اور اعلان کردہ حملوں کے علاوہ مزید حملوں کا امکان موجود ہے۔”
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آج رات جنوبی ایران پر کیے گئے جارحانہ حملے، آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں ہیں۔
امریکی فوج کی ایران پر حملوں سے متعلق بیان کے ساتھ ہی مقامی ذرائع نے بوشہر، چابہار، بندرعباس، ابوموسی، کنارک، خارک، جاسک اور سیریک شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی۔

