نگاه نو
مطالب ویژه

وہ میزائل جسے شہید رہبر نے جنگی مورچوں سے ہائپرسونک ٹیکنالوجی کی بلندیوں تک پہنچایا

نگاه نو- کبھی مقدس دفاع کی جنگ میں مجاہدین خالی ہاتھوں کے بل بوتے پر بعث کی بھاری ہتھیاروں سے لیس فوج کا مقابلہ کرتے تھے۔ آج ایران ہائپرسونک موشکوں “فتاح” کے ساتھ عالمی طاقتوں کے کلب میں شامل ہے۔ یہ راستہ شہید امام کی حکمت عملی کی بدولت ہموار ہوا۔

کبھی مقدس دفاع کی جنگ میں مورچوں پر خاردار تاریں بھی نایاب تھیں اور مجاہدین خالی ہاتھوں بعث کی جدید فوج کے سامنے ڈٹے رہتے تھے۔ آج ایران ہائپرسونک میزایلز “فتاح” اور “فتاح-۲” کے حامل ہیں، جو ۱۳ سے ۱۵ ماخ کی رفتار رکھتے ہیں اور جدید پدافندی نظاموں کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ ایران ان چند ممالک میں شامل ہے جو یہ ٹیکنالوجی رکھتے ہیں۔ یہ راستہ شہید امام کے دفاعی خودکفائی کے حکمت عملی نہج کی بدولت ہموار ہوا۔

یہ ہائپرسونک میزایلز چالیس سالہ سفر کا ثمر ہیں۔ یہ سفر پابندیوں کے دوران شروع ہوا اور آج فعال بازدارندگی پر منتج ہوا ہے۔ ایران کی میزایل صنعت پابندیوں اور قحط سالی کے دوران وجود میں آئی۔

انقلاب کے ابتدائی برسوں میں، اسلحے کی ناکہ بندی کے باوجود، ایرانی سائنسدانوں نے مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے اس شعبے میں ابتدائی قدم اٹھائے۔ شہید امام نے ہمیشہ دفاعی خودکفائی کو عزت اور بازدارندگی کا ذریعہ قرار دیا اور اس نہج نے موشکی ترقی کے راستے کو ابتدائی مختصر فاصلے کے میزایلز سے لے کر پیچیدہ ہائپرسونک ٹیکنالوجی تک متعین کیا۔

آج میزایل شعبے میں ہم ۱۰۰ فیصد خودکفیل ہیں

اس راستے کا سنگ میل، سال ۱۳۸۷ میں موشک “سجیل” کی نقاب کشائی تھی۔ یہ جمہوریہ اسلامی ایران کا پہلا ٹھوس ایندھن والا موشک تھا جس نے ملک کی میزایل صنعت میں بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ آج ایران زمین سے زمین، پدافندی نظاموں اور کروز موشکوں کی ڈیزائننگ اور تیاری میں مکمل خودکفیل ہے۔

آج میزایلزشعبے میں ہم ۱۰۰ فیصد خودکفیل ہیں اور کسی بھی غیر ملکی ملک کے محتاج نہیں۔ ہماری میزایل طاقت ہر گھنٹے بڑھ رہی ہے۔ (امیر نصیرزادہ، وزیر دفاع ایران)

آج ایران بیلسٹک اور ہائپرسونک میزایلز کے ساتھ اپنی بازدارندگی کو بے مثال سطح پر پہنچا چکا ہے۔ ہائپرسونک موشک “فتاح” جس کی رفتار ۱۳ تا ۱۵ ماخ اور رینج ۱۴۰۰ کلومیٹر ہے، موشکی صنعت کے معیاری ترقی کی علامت ہے۔ اسے خرداد ۱۴۰۴ میں “وعده صادق ۳” آپریشن کے دوران صیہونی حکومت کے فوجی اہداف کے خلاف استعمال کیا گیا اور سپاہ پاسداران نے اعلان کیا کہ یہ میزایل “اسرائیل کی موشکی پدافند کی افسانہ کے خاتمے کا آغاز” تھا۔

سجیل میزایل؛ ایران کی موشکی صنعت میں بنیادی تبدیلی

“سجیل-۱” شہاب-۳ کا جدید اور ارتقاء یافتہ ورژن ہے جس کی رینج تقریباً ۲۰۰۰ کلومیٹر اور ۶۵۰ کلوگرام کا وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، سب سے اہم کامیابی میزایل “سجیل-۲” ہے جو نئی نسل کے ٹھوس ایندھن کا استعمال کرتا ہے اور ہدف کو نشانہ بنانے میں زیادہ رفتار اور درستگی رکھتا ہے۔ “سجیل میزایل” جو پہلی بار ۱۳۸۷ میں نقاب کشائی کی گئی، جمہوریہ اسلامی ایران کا پہلا ٹھوس ایندھن والا میزایل ہے اور اسے دو اقسام میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے۔

یہ میزایل ایران کے دیگر زمین سے زمین میزایلز کے مقابلے میں نیویگیشن سسٹم میں منفرد کارکردگی رکھتا ہے، جو اسے ایرانی میزایلزمیں سب سے درست اور جدید ترین بناتا ہے۔

ارتقاء یافتہ بیلسٹک میزایل “عماد” اور “قدر” جدید انٹی-جیمر سسٹمز سے لیس، اور کروز میزایل “قدر ۳۸۰” جس کی رینج ۱۰۰۰ کلومیٹر سے زائد ہے اور زیر زمین میزایلز شہروں میں تعینات ہیں، ایران کی بازدارندگی کا حصہ ہیں۔

ایران کے پاس جہاز شکن میزایل جیسے “خلیج فارس” اور مختلف ریڈار شکن موشکوں کی ڈیزائننگ اور تیاری کی بھی صلاحیت ہے۔ سپاہ پاسداران کے زیر زمین میزایلز شہروں میں “قادر ۳۸۰” کروز میزایلز کی تعیناتی کے باعث ۵ منٹ سے بھی کم وقت میں فائر کرنے کی صلاحیت میسر ہے۔

میزایل “فتاح-۲” ایک نئی نسل ہے جو ہائپرسونک گلائیڈر (HGV) وارہیڈ کا استعمال کرتی ہے اور راستے اور بلندی میں تدبیر کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے پیٹریاٹ، تھاڈ اور آئرن ڈوم جیسے پدافندی نظاموں کے لیے اسے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

ایران کی میزایلز صنعت آج دفاعی عظمت کے عروج پر کھڑی ہے اور اس شعبے میں ۱۰۰ فیصد خودکفائی علاقائی خطرات کے خلاف سب سے بڑا بازدارندہ ہے۔ جہاز شکن کروز میزایلز سے لے کر ہائپرسونک گلائیڈر تک، ایران اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں فوجی کمانڈرز ایرانی میزایلز کی دوسرے ممالک کو برآمد کرنے کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہیں اور حالیہ جنگ میں دشمنوں کو اس صلاحیت سے سخت نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔

شہید امام کی حکمت عملی کا پائیدار ورثہ

آج ایران کے میزایلز، پہلے ٹھوس ایندھن والے “سجیل” سے لے کر ہائپرسونک “فتاح” تک، شہید امام کی دفاعی طاقت سے متعلق حکمت عملی کا پائیدار ورثہ ہیں۔ “سجیل-۲” اپنی بے مثال درستگی اور رفتار کے ساتھ اور “فتاح” جس نے جدید پدافندی نظاموں کو چیلنج کیا، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی عزم علم اور خودکفائی کی روشنی میں کس حد تک جا پہنچا ہے۔

اس راستے کو جاری رکھنے اور اقتدار کی بلندیوں پر قائم رہنے کے لیے، ہائپرسونک میزایلز کی تحقیق و ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری، جن کی رینج اور درستگی زیادہ ہو، ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ پیشگی حملوں کے خلاف بقا بڑھانے کے لیے زیر زمین میزایلز شہروں کی توسیع، مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے نئی نسل کے ٹھوس ایندھن کی پیداواری سلسلے کی تکمیل، دوست ممالک کے ساتھ موشکی پدافند میں تعاون تاکہ اجتماعی بازدارندگی پیدا ہو، اور خام مال اور جدید پرزوں کی سپلائی چین کی مکمل بومی سازی، یہ سب اخراجات اور انحصار کو کم کرنے کے لیے بنیادی اقدامات ہیں۔

اس راستے کو اسی عزم کے ساتھ جاری رکھنا جو شہید امام نے متعین کیا، ایران کو دنیا کی چند برتر میزایل طاقتوں میں شامل کر دے گا۔ ایسی طاقت جو جارحیت کی نہیں، بلکہ عزت اور بازدارندگی کی بنیاد پر ایرانی قوم کے لیے پائیدار امن و امان لائے گی۔

یہ وہ تھے جنہوں نے ہمیں سکھایا “ہم کر سکتے ہیں”

ان دنوں سے جب مورچوں پر خاردار تاریں بھی نہ تھیں، آج تک جب ہماری ہائپرسونک میزایلز دشمن کی پدافند کو پامال کر رہی ہیں، ہم نے وہ راستہ طے کیا جو شہید رہبر کی گہری نگاہ اور فولادی ارادے کے بغیر کبھی ہموار نہ ہو سکتا تھا۔

یہ وہ تھے جنہوں نے ہمیں سکھایا “ہم کر سکتے ہیں”؛ یہ وہ تھے جنہوں نے پابندیوں کے دوران عزت کو نکالا اور ہمیں سکھایا کہ “ہم کر سکتے ہیں” کوئی نعرہ نہیں، ایک راستہ ہے۔

آج جب “فتاح” میزایلز آسمان سے گزر رہی ہیں، ان کی بلند روح اس پر نظر رکھے ہوئے ہے؛ اس سالوں کی محنت، استقامت اور ایمان کے ثمر پر جو انہوں نے اس قوم کے دلوں میں بوئے۔

Leave a Comment