نگاه نو- صدر مملکت نے آیت اللہ شبیری زنجانی سے ملاقات میں کہا ہے کہ قطر میں ایران کے 12 بلین ڈالر کے کل ذخائر میں سے 6 بلین ڈالر طے شدہ منصوبوں کے تحت جاری اور ملک واپس بھیج دیے جائیں گے۔
مسعود پزشکیان نے قم کے دورے کے سلسلے میں آیت اللہ شبیری زنجانی، جو کہ مراجع عظام میں سے ہیں، سے ملاقات اور گفتگو کی۔
صدر مملکت نے اس ملاقات میں گزشتہ مہینوں کے واقعات اور حوادث کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی قوم کی دشمنوں کے دباؤ اور خطرات کے سامنے استقامت کو سراہا اور کہا کہ حالیہ جنگ میں اگرچہ دشمنوں نے عظیم الشان رہبر، وزرا، کمانڈروں، متعدد دانشوروں اور حتیٰ کہ ہمارے طلبہ کو شہید کیا، لیکن عوام، مسلح افواج اور حکومت نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ملک کی حفاظت کی اور دشمنوں کو اپنے اہداف حاصل کرنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور صیہونی حکومت نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں، ان کا خیال تھا کہ معاشی دباؤ اور داخلی حالات کو خراب کرکے ایران منہدم ہو جائے گا، لیکن عوام نے اپنی موجودگی اور حمایت سے ان حسابات کو غلط ثابت کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایرانی قوم کی مدد فرمائی۔
صدر مملکت نے حکومت کی طرف سے خصوصی صورتحال اور ممکنہ دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے کی گئی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے جیسے کارخانوں، گیس کی پیداوار کے وسائل، فولاد اور پیٹرو کیمیکل کی صنعتوں کو نشانہ بنا کر ترقی اور پیداوار کے عمل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی، نیز تیل کی فروخت پر پابندیاں لگا کر بے روزگاری اور معاشی بحران کو شدید کرنا چاہا، لیکن ایرانی قوم کے عزم اور الہی مشیت نے ملک کی ترقی اور سربلندی کے راستے کو جاری رکھا۔
پزشکیان نے حالیہ معاہدے کو ایرانی قوم کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایرانی عوام کے لیے بڑی فتح ہے اور اس کے تحت تیل اور پیٹرو کیمیکل کی پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے تعمیر نو کے عمل کے ساتھ ساتھ عوامی معیشت کے لیے امدادی منصوبے بھی ترتیب دیے ہیں جن میں کالا برگ (خوراک کے کوپن) کی مالی امداد میں اضافہ شامل ہے۔
صدر مملکت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مسدود شدہ اثاثوں کے ایک حصے کی آزادی کی بھی خبر دی اور کہا کہ طے شدہ منصوبوں کے تحت قطر میں ایران کے 12 بلین ڈالر میں سے 6 بلین ڈالر جاری اور ملک واپس بھیج دیے جائیں گے، جبکہ بقیہ رقم کی واپسی کے لیے بھی ضروری اقدامات جاری ہیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ امریکا نے بالآخر صیہونی حکومت کو معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا، اگرچہ صیہونی حکومت اور بعض بادشاہت پسند گروہ اب بھی اس معاہدے کے نفاذ کے خلاف ہیں۔
پزشکیان نے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے میں قومی یکجہتی کے فیصلہ کن کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اس عمل کو منظم نہ کرتی تو عوام کو بہت زیادہ شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران کا اقتدار اور وقوع عوام اور ذمہ داران کے ملی مفادات کے دفاع میں اتحاد، ہمدردی اور تعاون کا نتیجہ ہے۔

