نگاه نو- اقوام متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیرسعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش، سلامتی کونسل کے دورانی صدر اور جنرل اسمبلی کے صدر کو ایک خط لکھ کر اسرائیلی حکومت کے وزیر جنگ یسرائیل کاتس کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کو دھمکی دینے کو ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کی سرعام قتل کی دھمکی، اسلام آباد مفاہمت نامے کی شق (۱) کی بھی خلاف ورزی ہے جسے امریکہ نے دستخط کیا ہے اور اس کی تعمیل کو یقینی بنانے سمیت اس کی ذمہ داری امریکہ کے ذمے ہے۔
اس خط میں بتایا گیا ہے کہ اس قسم کی دھمکیاں محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ یہ ریاستی دہشت گردی کی ایک دانستہ اور منظم پالیسی کا حصہ ہیں جو ایران کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بناتی ہے اور اسرائیلی حکومت کی ایران کے خلاف غیر قانونی جارحانہ کارروائیوں کے سلسلے میں چلائی جا رہی ہے، جن میں ایران کے مرحوم رہبر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری عہدیداروں کا قتل شامل ہے، جو امریکہ کی شراکت، ہم آہنگی اور حمایت سے انجام دیے گئے ہیں۔
ایران کے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قسم کی پالیسی اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں بشمول طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی ممانعت کے اصول اور بین الاقوامی قانون کے آمرانہ قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس خط میں بیان کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے جون ۲۰۲۵ میں ایران کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں کے دوران اور ۲۸ فروری سے ۸ اپریل ۲۰۲۶ کے درمیان جان بوجھ کر شہریوں اور شہری اہداف بشمول ہسپتالوں، تعلیمی مراکز اور ثقافتی مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار ہزار آٹھ سو سے زائد شہری جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لہٰذا قتل کی تازہ دھمکی کو بھی اسی غیر قانونی ریاستی دہشت گردی اور مجرمانہ جارحیت کی پالیسی کے تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی خودمختار رکن ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین خصوصاً حق حیات اور بین الاقوامی انسانی امدادی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایران کے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں زور دیا گیا ہے کہ بدقسمتی سے سلامتی کونسل کا چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا استثنیٰ اور سزا سے تحفظ کے ماحول کو تقویت دے رہا ہے اور اسرائیلی حکومت کو ریاستی دہشت گردی کو معمول بنانے پر مزید دلیر کر رہا ہے کہ اس طرح کا استثنیٰ ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران ان دھمکی آمیز اور شرمناک بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسرائیلی حکومت کو ان دھمکیوں کے نتیجے میں کسی بھی جارحانہ کارروائی یا دیگر غیر قانونی اقدامات کے تمام نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
ایران نے اپنے خط میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی بھی غلط حساب کتاب یا مخاصمانہ اقدام فیصلہ کن اور فوری جواب کا باعث بنے گا اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری صرف اسی حکومت پر ہوگی۔
خط کے ایک اور حصے میں اعلان کیا گیا ہے کہ جمہوریہ اسلامی ایران نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق ۵۱ کے مطابق مشروع دفاع کے اپنے فطری حق پر زور دیا ہے اور اپنی خودمختاری، سرزمینی سالمیت، قومی سلامتی اور اپنے عوام کا کسی بھی مسلح حملے یا طاقت کے غیر قانونی استعمال یا دھمکی کے خلاف دفاع کرنے کے لیے تمام ضروری اور متناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران ضرورت پڑنے پر اس حق کو پوری گرفت اور مضبوط عزم کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
خط کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ اسلامی ایران سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاستی عہدیدار یا رہنما کے خلاف قتل کی دھمکی یا کارروائی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر واضح طور پر اس کی مذمت کرے۔
ایران نے سلامتی کونسل سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام افراد کو جوابدہ اور ذمہ دار ٹھہرائے جو اس طرح کے اقدامات کو ڈیزائن، منظور، سہولت فراہم، حمایت یا عملی جامہ پہناتے ہیں اور اسرائیلی حکومت کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنائے اور جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف اپنی غیر قانونی جارحانہ کارروائیوں اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرائے۔
ایران نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اس خط کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی دفتری دستاویز کے طور پر ایجنڈا نمبر ۸۴ کے تحت “قانون کی حکمرانی” کے عنوان سے رجسٹر اور تقسیم کیا جائے۔

