نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

عراقچی کا امریکی پابندیوں اور عہدشکنی پر ردعمل

نگاه نو- ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ۸ افراد اور ۶ اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اقدام پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں واضح کیا کہ امریکی وزارت خزانہ کا یہ نیا اقدام مفاہمت نامے کی شق نمبر ۹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عراقچی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران اب تک اپنے عہد پر پورا اترا ہے، جبکہ امریکی وزیر خزانہ نے مفاہمت نامے کی شق نمبر ۹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تخلف امریکا کی جانب سے سابقہ خلاف ورزیوں اور غلطیوں کا تسلسل ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے پیغام کے آخر میں اس امر پر زور دیا کہ وعدوں کی پاسداری صرف دو طرفہ بنیادوں پر ممکن ہے۔

واضح رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مفاہمت نامے کی شق نمبر ۹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید افراد اور کمپنیوں کے نام ایران مخالف پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیے تھے۔ امریکی وزارت خزانہ کے تحت خارجی اثاثوں پر قابو پانے والے دفتر نے اعلان کیا کہ اس نے ۸ افراد اور ۶ اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکا نے مفاہمت نامے کی شق نمبر ۹ کے تحت خود کو نئی پابندیاں عائد کرنے سے روکا تھا۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے سے قبل امریکا اور ایران موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر متفق ہیں، جس کے تحت ایران اپنی جوہری پروگرام کی موجودہ حالت برقرار رکھے گا اور امریکا کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا اور نہ ہی خطے میں اضافی فوجی تعینات کرے گا۔

امریکا چند روز قبل بھی اس مفاہمت نامے کی شق نمبر ۱۰ کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے تیل کی فروخت سے متعلق اجازت نامے کو منسوخ کر چکا ہے۔

Leave a Comment