وزارت مذہبی امور نے عراق جانے والے زائرین کے لئے ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کردیا اور کہا مقررہ مدت سے زائد قیام پر 5 لاکھ عراقی دینار کا بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے انتہائی اہم ہدایات جاری کی ہیں، جس کے مطابق عراقی حکومت نے زیارت ویزا کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکنے کے لیے سخت ترین قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
ویزا شرائط کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں زائرین کو عراق میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے اور ان کی ویزا فیس بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں فیملی گروپ ویزا پر جانے والے تمام افراد کا ایک ساتھ سفر کرنا اور سرحد پار کرنا لازمی ہوگا جبکہ 50 سال سے کم عمر مرد اب تنہا سفر کر کے عراق میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
وزارت کا مزید کہنا تھا کہ زیارت ویزا صرف 30 دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا، اور زائرین عاشورہ اور اربعین کے لیے ایک ہی ویزا استعمال نہیں کر سکیں گے بلکہ دونوں کے لیے الگ الگ ویزا لینا ہوگا۔
عراقی قوانین کے تحت اگر کوئی زائر مقررہ مدت سے زائد یعنی 60 دن سے زیادہ وہاں قیام کرے گا تو اسے 5 لاکھ عراقی دینار کا بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ حراست، ملک بدری اور مستقل پابندی بھی ہوسکتی ہے۔
قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی آئندہ کے لیے تمام ویزا درخواستیں ہمیشہ کے لیے مسترد کر دی جائیں گی۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ سفر کے وقت زائرین کے پاسپورٹ کی کم از کم مدت 6 ماہ ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، اب بچوں یا فیملی کے دیگر ارکان کا نام ایک ہی پاسپورٹ پر قابلِ قبول نہیں ہوگا، بلکہ ہر فیملی ممبر کے لیے الگ اور انفرادی پاسپورٹ ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔

