نگاه نو- عراق میں شہید رہبر کی تاریخی تشییع کا آغاز ہو گیا ہے۔ عراقی عزاداروں اور حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زائرین کی بھرپور شرکت کے ساتھ، انقلابی شہید رہبر کے پاکیزہ پیکر کا رسمی جلوس آج صبح نجف اشرف سے روانہ ہوا۔
کل شام کو شہید رہبر اور ان کے خاندان کے شہیدوں کے پاکیزہ پیکر نجف اشرف کے ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں عراقی عوام نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ آج صبح سویرے سے نوحہ خوانی، مرثیہ سرائی اور اہل بیت علیہم السلام کے عاشقوں کے کندھوں پرپیکر اٹھا کر حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام تک کے راستوں پر یہ جلوس جاری ہے۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق، نجف اشرف میں تشییع کے بعد پاکیزہ پیکر کو کربلائے معلی منتقل کیا جائے گا، جہاں حرم سیدالشہداء علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام میں تشییع اور طواف کی رسم ادا کی جائے گی۔
شہید رہبر کے ہمراہ عراقی عوام نے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان سے اپنی بیعت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ایران کے پرچم اور مزاحمتی بینروں کو لہرا کر انہوں نے جبهہ مقاومت کے لیے اپنی حمایت کا پیغام دیا۔
آج صبح سویرے شہید رہبر کے خاندان کے شہیدوں کے پاکیزہ پیکر، عزاداروں کے نعرے “لبیک یا علی علیہ السلام” کے درمیان حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام میں داخل کر دیے گئے۔
نجف اشرف میں تشییع کے موقع پر شیخ ابراہیم زکزاکی بھی عزاداروں کے ہمراہ موجود تھے۔
عراق میں تشییع کے سلسلے کے دوران شہید رہبر اور ان کے خاندان کے شہیدوں کے پاکیزہ پیکر حرم سیدالشہداء علیہ السلام میں بھی پہنچا دیے گئے۔

