نگاه نو
اخبار روز

امریکہ اسرائیل تعلقات میں ظاہری شگاف محض مشترکہ حکمتِ عملی، ماہرین کا اہم تجزیہ

نگاه نو- وزیرِ اعظمِ اسرائیل نے پیر کی صبح سویرے امریکی نائب صدر کے بیان کا جواب دیا ہے۔ یہ سلسلۂ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین اسے دونوں فریقوں کی جانب سے جاری ’جنگِ ظاہری‘ کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ ہی اسرائیل کا واحد اتحادی ہے۔ تاہم بنیامین نتنیاہو نے بظاہر طنزیہ انداز میں کہا کہ ہمارے کچھ اور بھی دوست ہیں، مثلاً ایک چھوٹا سا ملک ہندوستان جس میں ایک ارب چالیس کروڑ افراد آباد ہیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جو ظاہری شگاف نظر آتے ہیں، وہ دراصل دونوں کی مشترکہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے اسی ’جنگِ ظاہری‘ کا حصہ ہیں۔

گزشتہ سال مئی کے مہینے میں بارہ روزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بین الاقوامی میڈیا بالخصوص ایکسیوس نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی متعدد رپورٹیں شائع کیں۔

چند ماہ بعد واشنگٹن پوسٹ نے اطلاع دی تھی کہ یہ اختلاف کا احساس دلانا دونوں اطراف کی جانب سے ایک جنگی چال ہے، جس کا مقصد ایران کے فیصلہ ساز عہدیداروں کے حسابات میں غلطی پیدا کرنا ہے۔

Leave a Comment