نگاه نو- ایک نئی سروے کے مطابق، دو تہائی امریکی شہری ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہ سروے امریکی میڈیا نے جمعہ کو جاری کی، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے صدر کی ایران پالیسی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
یہ سروے ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک ریسرچ سینٹر نے مشترکہ طور پر کروائی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے اعلان کے ساتھ ہی مکمل ہوئی۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ امریکی عوام کی اکثریت اب بھی ٹرمپ کے ایران سے نمٹنے کے طریقے سے ناخوش ہے، جبکہ ان کی مجموعی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امریکی عوام میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کتنی غیرمقبول ہے۔ ٹرمپ کی اس جنگ میں حکمت عملی کی حمایت انتہائی سیاسی بنیادوں پر منقسم ہے۔ تقریباً ۶۵ فیصد بالغ شہری ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی سے ناراض ہیں۔ تاہم، جہاں ڈیموکریٹس اور آزاد رائے رکھنے والوں کی بھاری اکثریت ٹرمپ کے اقدامات کو منفی قرار دیتی ہے، وہیں صرف ۲۸ فیصد ریپبلکنز ان سے غیر مطمئن ہیں۔
امریکی عوام کی صدر کی ایران پالیسی پر رائے تقریباً ان کی مجموعی مقبولیت (جو ۳۷ فیصد ہے) کے مطابق ہے، اور مئی کی سروے کے مقابلے میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہ نیا سروے ۱۱ سے ۱۷ جون کے درمیان کروایا گیا، بالکل اس وقت جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بڑھانے کی اپنی دھمکیاں واپس لیں۔ یہ سروے اسی دوران مکمل ہوا جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، اور بدھ کو حتمی معاہدے پر دستخط سے ٹھیک پہلے اسے اختتام پذیر کیا گیا۔

