نگاه نو- اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت خارجہ ایران، نے آج رات سنٹ کام کے کمانڈر کے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے پانچ رکن ممالک اور اردن کو امریکی جارحیت میں شمولیت کے حوالے سے وضاحت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے تو جن ممالک کے نام لیے گئے ہیں انہیں باضابطہ اور واضح طور پر اس کی تردید کرنی چاہیے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے سنٹ کام کے کمانڈر جنرل بریڈ کوپر کے ایک ویڈیو بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صراحت کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کے پانچ ممالک اور اردن کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے امریکا کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں شرکت کی ہے۔ بقائی نے مزید کہا کہ اگر امریکا کا یہ بیان غلط ہے تو مذکورہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس کی سرکاری اور غیرمبہم الفاظ میں تردید کریں۔
ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی تحریر میں کہا کہ ایسی صورت حال میں جب ایران اپنے قانونی اور فطری حق دفاع کے تحت امریکی فوجی اڈوں اور سپورٹ اثاثوں کو ان ممالک کی سرزمین پر نشانہ بناتا ہے تو یہ سوال پوچھنا کہ “ایران نے ایسا کیوں کیا؟” کوئی منطقی جواز نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ خطے میں عدم استحکام اور تنازعات کی بنیادی وجہ امریکا اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بقائی نے کہا کہ اس جارحیت میں کسی بھی قسم کی شرکت، چاہے وہ فوجی کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کرنے کی صورت میں ہو، اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ۳۳۱۴ کے تحت جارحیت کی تعریف میں آتی ہے اور یہ عمل جارحانہ اقدام کی مثال ہے جو حسن ہمسایگی کے اصول اور چارٹر کے آرٹیکل ۲ کے شق ۴ کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کا اپنا دفاع پورے خطے میں امن و استحکام کو بحال کرنے کی غرض سے ہے۔

