نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

وال سٹریٹ جرنل: کویت میں امریکی  اپنی فوجی موجودگی میں کمی کے امکان کا جائزہ

نگاه نو- امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ سے متعلق حالیہ پیش رفتوں کے نتیجے میں کویت میں اپنی موجودگی میں کمی لانے کا جائزہ لے رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران اپنی افواج کی تعداد اور موجودگی کے دائرہ کار کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ کویتی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی امریکہ کی جانب سے اپنے ملک کے تحفظ کے لیے پختہ عزم کے خواہاں ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جنگ کے دوران امریکی تنصیبات اور اڈے کئی بار ایران کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تعلق میں تبدیلی کا سب سے بڑا سبب امریکہ کی جانب سے یہ حقیقت سمجھا جانا ہے کہ کویت میں مستقل اور بڑی فوجی موجودگی اب نہ تو ناگزیر ہے اور نہ ہی فوجی لحاظ سے دانشمندانہ اقدام ہے۔

خلیج فارس کی پہلی جنگ کے دوران کویت کی آزادی کے بعد کی دہائیوں میں امریکہ اس تیل سے مالا مال دولت مند ملک کو دنیا بھر میں اپنی زمینی افواج کے لیے ایک بڑے سپورٹ اور لاجسٹک اڈے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، جہاں ہزاروں فوجی، ابرامز ٹینک اور بھاری توپ خانہ موجود تھا۔

وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کویت کو تحفظ کا احساس دلاتی تھی کیونکہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بڑا اور طاقتور پڑوسی اسے دوبارہ خطرہ نہیں دے سکتا۔

لیکن ایران کی جنگ نے واشنگٹن اور کویت دونوں کے لیے اس انتظام اور معاہدے کو مشکوک بنا دیا ہے۔

خلیجی عرب ممالک کی تھنک ٹینک کے سربراہ اور کویت میں امریکہ کے سابق سفیر ڈگلس سلیمن کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے کویتی عوام میں امریکی موجودگی کو ایک طرف ایک اضافی بوجھ اور خطرے کا باعث اور دوسری طرف ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر ناگزیر قرار دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے دفاعی منصوبوں کے لیے بہترین راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ پینٹاگون ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی افواج میں کمی لانے پر غور کر رہا تھا۔

امریکی حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ پینٹاگون ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کویت میں اپنی موجودگی کو کم کر رہا ہے تاکہ خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق کویتی حکام بھی خلیجی دیگر ممالک کی طرح اس بات پر ناراض اور پریشان ہیں کہ ٹرمپ نے ان سے مشورہ کیے بغیر جنگ شروع کی جس نے انہیں نشانے پر لا کھڑا کیا، اور یہ احساس تنازعہ کے طول پکڑنے اور تیل کی برآمدات کے رک جانے کے باعث اور بھی شدید ہو گیا ہے۔

Leave a Comment