ذرائع نے پریس ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات کے بارے میں مذاکرات 19 فروردین (8 اپریل) کو جنگ بندی کے فوری بعد سے شروع ہو گئے تھے اور 28 خرداد (18 جون) کو جنگ کے خاتمے کے تفاہم کے بعد یہ مذاکرات زیادہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایران نے مفاہمت کی یادداشت کے شق 5 کے تحت اپنی ذمہ داری کو عمان کے ساتھ مشاورت اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ گفتگو کے ذریعے سنجیدگی سے جاری رکھا، اور توقع تھی کہ شق 5 میں متعین 30 روزہ مدت میں اس کا نتیجہ نکل آئے گا۔ لیکن افسوس کہ امریکہ کی مداخلت اور خطے کے بعض ممالک کی رکاوٹوں نے اس عمل کو درہم برہم کر دیا۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب دو ہفتے سے زائد عرصے سے عمانی فریق کے ساتھ مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور اگر امریکہ اور بعض دیگر کی رکاوٹیں ختم ہو جائیں تو ایران اور عمان کے درمیان دو طرفہ تفاہم ممکن ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ایک نئی راہداری (کریدور) پر اتفاق کرنا ہے جو ایران کے حاکمیتی حقوق اور تحفظات کو پورا کرے، کیونکہ ایران ایک ساحلی ریاست ہے جو حملہ آور امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی اس آبی گزرگاہ کے غلط استعمال سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ درمیانی راہداری آبنائے سے محفوظ گزر بہم پہنچا سکتی ہے، اور اس راہداری کے عملی ہونے کے بعد شمالی اور جنوبی دونوں راستے بند کر دیے جائیں گے۔
اس رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکرات دو ساحلی ریاستوں کے درمیان ہیں اور اس کا امریکہ سمیت دوسروں سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ٹرمپ بار بار مداخلت کر کے اس عمل پر اپنے اثر و رسوخ کا تاثر دینا چاہتے ہیں۔ وہ ایک کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کی عوام کو بتا سکیں کہ انہوں نے دھمکیوں اور الٹی میٹم کے ذریعے اس عمل کو متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود، اس عمل میں امریکہ کا اثر و رسوخ ہمیشہ منفی رہا ہے اور اس نے مذاکرات کے عمل کو سست کر دیا ہے۔ کیونکہ ایران اپنے مفادات اور ترجیحات کو ٹرمپ کے وقت یا خواہش کے مطابق نہیں بناتا۔ ٹرمپ نے عہد شکنی کی ہے اور ایران اپنا منصوبہ آبنائے میں انتظامات کے حصول کے لیے امریکہ کی دھمکیوں سے آزادانہ طور پر آگے بڑھا رہا ہے اور بڑھاتا رہے گا۔
اس رپورٹ کے مطابق، آبنائے میں موجود سرکاری راہداری 1968 سے عمان کی سرزمینی پانیوں میں تھی اور ایران نے اس پر کوئی حساسیت ظاہر نہیں کی تھی۔ لیکن گزشتہ 5 مہینوں کے واقعات اور امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی اس آبی گزرگاہ کا ایران پر حملہ کرنے کے لیے غلط استعمال نے ایران کے شریفانہ رویے کو جاری رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، اور ایران پرعزم ہے کہ آبنائے میں گزر کے نئے انتظامات اس طرح طے اور منظم کیے جائیں کہ ایران کے حاکمیتی حقوق اور اس کے قومی مفادات اور سلامتی مکمل طور پر محفوظ رہیں۔

