نگاه نو- امریکی حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا ہے کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والا کوئی معاہدہ تہران کے آ بناۓ ہرمز پر کنٹرول کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ امریکی حکام نے منگل کی صبح دعویٰ کیا کہ آ بناۓ ہرمز میں بحری آمدورفت بڑھانے کے لیے عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
ان نامعلوم ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ عمان اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات عالمی توانائی کی منڈی پر دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خدشات موجود ہیں کہ ایران اور عمان کے درمیان کوئی معاہدہ تہران کے آ بناۓ ہرمز پر کنٹرول کو مستحکم کر سکتا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا معاہدہ پسند کریں گے جو آ بناۓ ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے، نہ کہ ایسا معاہدہ جو تہران کو تجارتی آمدورفت پر مزید اختیار فراہم کرے۔ جرنل نے مزید لکھا کہ امریکی حکام عمان کے کردار پر منقسم ہیں۔ کچھ اعلیٰ حکومتی اہلکار نجی طور پر مسقط پر تہران کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں۔
دوسری طرف کچھ حکام کا کہنا ہے کہ عمان کا ایران کے ساتھ طویل عرصے سے قائم تعلق اسے ایک قابل قدر ثالث بناتا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ تہران کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں مسقط کو قربان کر رہے ہیں۔

