نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

آبنائے ہرمز پر امریکی مؤقف: دعوے بھی، اعتراف بھی اور تضاد بھی

نگاه نو- وائٹ ہاؤس اور اس کے مشیر نے تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے وہم و گمان کو دہرایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران گزشتہ ماہ سے اپنے ساحلوں پر نافذ کردہ ناکہ بندی کے باعث اپنی تیل کی کوئی کھیپ برآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

وائٹ ہاؤس نے سینٹ کام کی جھوٹی بیان کا سہارا لیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکی امداد سے آبنائے ہرمز سے پندرہ سو جہازوں نے ساڑھے سات کروڑ بیرل تیل کی ترسیل کی ہے اور اس آبی گزرگاہ میں نصب بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا گیا ہے۔

جب کہ متعدد امریکی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کے اعتراف کے مطابق، ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں سخت شکست کھا چکے ہیں اور وہ اب بھی اس مہنگی جنگ کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کے مشیر اسٹیفن ملر نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ٹرمپ کی کامیابی عصری جنگوں کی تاریخ میں سب سے بڑی فوجی کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور ملٹری ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمز امریکہ کے لیے کھلا اور ایران کے لیے بند ہے۔

حالانکہ کیپلر کمپنی نے دو روز قبل تسلیم کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت اب بھی کمزور ہے۔

Leave a Comment