نگاه نو
اخبار روز

ٹرمپ کا خواب دیکھنے پر اصرار: ’’ایرانی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘‘

نگاه نو- امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں ایران کی مضبوط مزاحمت پر گہری تشویش کی خبریں سامنے آنے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت بڑھا چڑھا کر بات کرتے ہوئے حقیقت کو الٹ دکھانے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ ایرانی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پسندیدہ ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گزشتہ دنوں کی طرح دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا: ’’ایرانیوں کے لیے جنگ جاری رکھنا بہت مشکل ہو رہا ہے اور وہ انتہائی مشکل صورتحال میں ہیں۔‘‘ اس دوران میزبان نے ان سے پوچھا: ’’اگر ہم نے ایران کے میزائل تباہ کر دیے ہیں تو وہ اب بھی میزائل کیوں داغ رہے ہیں؟‘‘ ٹرمپ نے عجلت میں جواب دیا: ’’ان کے پاس ہمیشہ کچھ میزائل موجود رہتے ہیں، ان کے پاس بہت زیادہ میزائل تھے۔‘‘

ٹرمپ نے گزشتہ روز بھی کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ ان کے بقول ’’ایرانی اب مزاحمت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘‘

ٹرمپ کی جانب سے اس دعوے کو بار بار دہرائے جانے کے برعکس، وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ حقیقت ٹرمپ کے بیان سے بالکل مختلف ہے۔ اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام اور ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں بتایا ہے کہ ایرانی سخت مزاحمت کر رہے ہیں اور یہ جنگ ان کی صدارتی مدت کے اختتام یعنی 2029 تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس اخبار نے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا: ’’جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور دیگر حکام نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ خفیہ طور پر اس امکان پر بات چیت کی ہے کہ تہران پابندیوں، ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے مقابلے میں مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور جنگ 2029 تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔‘‘

Leave a Comment