نگاه نو- وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کے اعلان پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی نئی اقتصادی پابندیاں درحقیقت تمام ریاستوں کے خلاف جنگ کا اعلان ہیں۔
بقائی نے لکھا کہ امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان محض ایک ملک کے خلاف غیرقانونی “اقتصادی جنگ” جاری رکھنے سے کہیں آگے کی بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام دراصل اقوام متحدہ کے تمام خودمختار رکن ممالک پر امریکی ماورائے حدود حاکمیت مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ غیرملکی بینکوں، اداروں یا ہوائی اڈوں کو – جو اپنی اپنی خودمختار صلاحیتوں کے تحت کام کرتے ہیں – مجبور کرے کہ وہ کسی تیسری ریاست کے ساتھ جائز تجارت سے گریز کریں۔
بقائی نے واضح کیا کہ اس قسم کی ثانوی پابندیوں کا بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ پابندیاں خودمختاریوں کی برابری کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے بند 1 میں قائم ہے، اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی رواجی ممانعت کو پامال کرتی ہیں، جسے بین الاقوامی عدالت انصاف نے نکاراگوا کیس میں بھی تسلیم کیا تھا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اقتصادی دہشت گردی، جس کا مقصد کسی خودمختار ریاست کو اس کے جائز پالیسی اختیارات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہو، ایک بین الاقوامی جرم اور قابلِ سزا عمل ہے۔ جب ان پابندیوں کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی کی جائے، جو خود ایک جارحانہ عمل ہے، تو یہ دوسری ریاستوں کی خودمختاری کو ایک عارضی اور غیرملکی طاقت کی مرضی سے مشروط چیز بنا دیتا ہے۔ اس طرح کے کھلے دباؤ کی تعمیل کسی بھی ریاست کو محفوظ نہیں بنائے گی، بلکہ یہ غیرملکی حاکمیت کو ترجیح دینے اور دوسرے ممالک کے بینکوں، اقتصادی اداروں اور ہوائی اڈوں کی قانونی سرگرمیوں پر بیرونی تسلط تسلیم کرنے کے مترادف ہوگی۔
انہوں نے تاکید کی کہ اس صورتحال کا حتمی نتیجہ قومی خودمختاری کا مکمل خاتمہ ہوگا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر پر مبنی بین الریاستی تعلقات کا بنیادی اصول ہے، اور یہ خالص اور مکمل استعمار کی جانب تباہ کن واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

