نگاه نو
اخبار روزورزش

مصنوعی ذہانت میں سنہری کارنامہ/ شیراز میں قهرمان کا شاندار استقبالیہ

نگاه نو- ایک ایرانی طالب علم جس نے عالمی اولمپیاڈ برائے مصنوعی ذہانت میں طلائی تمغہ حاصل کیا، قومی ٹیم کے ساتھ عالمی اعزاز جیتنے کے بعد شیراز ہوائی اڈے پر سرکاری افسران، اساتذہ اور طلباء کی جانب سے پرجوش استقبال کا مرکز بنے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا تیسرا عالمی اولمپیاڈ (IOAI 2026) 11 سے 16 اگست تک قازقستان کے شہر آستانہ میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک کے چار سو سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا۔

اس مقابلے میں ایران کی قومی طلبہ ٹیم نے ایک گولڈ، دو سیلوراور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کرتے ہوئے عالمی چیمپئن شپ اپنے نام کی۔

شیراز کے علاقہ دو کے اسکول توحید کے طالب علم شایان رضازادہ نے ایران کی واحد طلائی تمغہ حاصل کیا اور ملکی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فارسی طالب علم نے منگل کی شام وطن واپسی پر شہید دستغیب ہوائی اڈے کے ذریعے شیراز میں قدم رکھا، جہاں صوبائی ذمہ داران، معلمین اور ہم جماعتوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔

شیراز میں اولمپیاڈ ہاؤس کا افتتاح

اس موقع پر صوبہ فارس کے تعلیمی ڈائریکٹر سعید کلاری نے رضازادہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی علمی اولمپیاڈز میں کامیابی کے لیے منصوبہ بندی، محنت اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ حکومت کے موقع پر شیراز کا پہلا اولمپیاڈ ہاؤس کھولا جائے گا، جو علمی اولمپیاڈز میں دلچسپی رکھنے والے طلباء کی معاونت کے لیے قائم کیا جا رہا ہے اور انہیں درسی و مطالعاتی سہولیات فراہم کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرکز میں بین الاقوامی اولمپیاڈز میں تمغہ جیتنے والے طلباء اور تجربہ کار اساتذہ طلباء کی تربیت کریں گے، اور صوبہ فارس کے دور دراز اضلاع کے مستحق طلباء کو ہفتے کے آخر میں اس مرکز تک رسائی حاصل ہو گی۔

تعلیمی ڈائریکٹر نے کہا کہ فارس میں بہت سے ذہین طلباء موجود ہیں، اور انہیں امید ہے کہ اولمپیاڈ ہاؤس کے قیام اور صوبائی انتظامیہ کی معاونت سے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں صوبے کے تمغہ جیتنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے شایان رضازادہ کی اخلاقی خصوصیات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی صرف طلائی تمغہ تک محدود نہیں، بلکہ ان کا شائستہ اخلاق اور تربیت بھی انہیں عوام میں مقبول بناتی ہے۔

کلاری نے آخر میں زور دیا کہ یہ اعزاز تمام عوام کا ہے اور انہیں امید ہے کہ فارس کے طلباء بین الاقوامی میدان میں اسی طرح کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے۔

Leave a Comment