نگاه نو
اخبار روز

ایران کی میزائل حملوں کے باعث امریکی فوج کے دفاعی ذخائر میں کمی کا بحران

نگاه نو- امریکی خبر رساں ادارے “این بی سی” نے سرکاری حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کو اپنے فضائی دفاعی ذخائر کی تیزی سے کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ ایرانی میزائل اور ڈرون کے مقابلے میں “انتخابی فائرنگ” کی پالیسی پر عملدرآمد کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

نئے ہدایات نامے کے مطابق امریکی کمانڈروں کو پہلے سے اجازت نہیں کہ وہ ہر حملے کا جواب دیں، بلکہ فضائی دفاعی نظام صرف اس صورت میں مداخلت کرسکتا ہے جب امریکی فوجی اہلکاروں یا انتہائی اہم تنصیبات کو براہ راست خطرہ لاحق ہو۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جن مقامات پر امریکی افواج کی موجودگی نہیں، وہاں امریکی دفاع نے مہنگے میزائلوں کی بچت کے لیے مداخلت سے گریز کیا ہے۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر کی مکمل کمی کے خوف سے بڑے جارحانہ آپریشنز کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی آرمی چیف آف اسٹاف ڈین کین کی واضح وارننگ کے بعد کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلحے کے ذخائر خطرناک سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں اس بحران کی تردید کرنے کی کوشش کی، لیکن پینٹاگون سے لیک ہونے والی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگِ استنزاف اور یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحے کی ترسیل نے امریکی دفاعی ذخائر کو شدید متاثر کیا ہے، اور اس تسلیحاتی کمزوری کو پورا کرنے میں برسوں لگ جائیں گے۔

Leave a Comment