نگاه نو- پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تا اطلاع ثانی اور امریکہ کی مداخلتوں کے خاتمے تک بند رہے گا اور کوئی بھی شناور اس میں گزرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
اعلامیے کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ قاصم الجبارین
ہم اپنے پچھلے اعلامیے میں واضح کر چکے تھے کہ غیر ملکیوں کی مداخلتوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے غیر قانونی راستوں کے تعین سے ہمارا سخت مقابلہ کیا جائے گا اور اس سے آبنائے میں آمد و رفت کے معمولات میں خلل واقع ہوگا۔
چند گھنٹے قبل ان تنبیہات کو نظر انداز کیا گیا اور غیر ملکی عناصر کی تحریک پر متعدد کشتیوں نے غیر منظور شدہ راستے پر حرکت کرنے کی کوشش کی اور ہماری جانب سے راستہ درست کرنے اور مجاز راستے پر چلنے سے متعلق ہدایات اور انتباہات کو یکسر رد کر دیا۔
اس پر مجبوراً ایک کشتی جس نے اپنے بحری نظام کو بند کرکے بحری سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا، کو وارننگ شاٹ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے روک دیا گیا۔
اس واقعے کے پیش نظر، اولاً اس امن و امان کی کمی کی وجہ سے جو غیر قانونی غیر ملکی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہوئی، آبنائے ہرمز تا اطلاع ثانی اور امریکہ کے اس خطے میں مداخلتوں کے خاتمے تک بند قرار دیا جاتا ہے اور کوئی بھی شناور اس میں تردد نہیں کر سکے گا۔ ثانیاً، اگر جارح دشمن اس واقعے کو بہانہ بنا کر (جس کا خود ذمہ دار ہے) کوئی غلطی کرے اور ہمارے خلاف نئی جارحیت کا ارتکاب کرے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا اور دشمن کے نئے اڈے جو اس خطے میں موجود ہیں، نشانہ بنائے جائیں گے۔
اس قسم کی مداخلت کے تمام نتائج کا ذمہ دار امریکی-صیہونی دشمن اور وہ ممالک ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین کو ان خطرات کے پیش نظر دشمن کے اڈوں کے لیے فراہم کیا ہے۔
و ما النصر الا من عند اللہ العزیز الحکیم

