نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

سینٹ کام: ایران کے خلاف حملوں کا تیسرا دور شروع

نگاه نو- امریکی دہشت گرد تنظیم “سینٹرل کمانڈ” (سینٹ کام) نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ آج مشرقی وقت کے مطابق شام ۷:۱۵ بجے، امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے اس ہفتے ایران کے خلاف حملوں کا تیسرا دور شروع کیا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ حملے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔

سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں “ایم وی جی ایف ایس گلیکسی” جہاز پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس حملے میں جہاز کا ایک عملہ لاپتہ ہو گیا ہے اور جہاز میں آگ لگ گئی ہے جس کے باعث وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

سینٹ کام کی جانب سے اس جہاز پر ایران کی فائرنگ کو بے جا ثابت کرنے کی کوشش اس حال میں کی جا رہی ہے کہ یہ جہاز پاسداران انقلاب کی بحریہ کی بار بار وارننگ کے باوجود مقررہ علاقے سے گزرنے کو تیار نہیں ہوا اور آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں اپنی راہ پر گامزن رہا، جس کے بعد اسے وارننگ شاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی دہشت گرد فوج نے اپنے بیان کے آخری حصے میں معمول کی مبالغہ آرائی دہراتے ہوئے لکھا کہ اس اقدام کے جواب میں امریکہ ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرتا رہے گا کہ وہ اس آبنائے سے گزرنے والے عام شہری بحری کارکنوں اور تجارتی جہازوں پر آزادانہ حملہ کر سکے، اور اس طرح ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کیا جائے گا۔

امریکی وزیر جنگ پِیٹ ہیگستھ نے بھی آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم اور اس معاملے سے پیچھے نہ ہٹنے پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ “ایران نے برا آپشن اور برا فیصلہ کیا اور اب وہ اس کی قیمت ادا کر رہا ہے”۔

اس سلسلے میں عربی ذرائع نے کویت کی سرزمین سے ایرانی اہداف کی جانب ہائی مارس راکٹ فائر کیے جانے کی خبر دی ہے اور اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

اسی طرح عراقی ذرائع نے بھی اطلاع دی ہے کہ عراق کے آسمان پر امریکی میزائل دیکھے گئے ہیں جو ایران کی جانب فائر کیے گئے تھے۔

یہ حملے اس وقت کیے جا رہے ہیں جب مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے تسلط اور انتظام کو برقرار رکھنا امریکہ کے لیے ایک خوابِ وحشتناک ہے، کیونکہ ایسی صورت میں ٹرمپ کی جنگ جویانہ پالیسی کا واحد نتیجہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کا کارڈ چالو کرنا ہو گا۔ یہ آبنائے جنگ شروع ہونے سے پہلے معمول کے مطابق کھلی اور فعال تھی۔ اس آبنائے کے بارے میں روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین میڈویدیف کا کہنا ہے کہ اس کی اہمیت ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار سے کم نہیں۔

لہٰذا اسلامی جمہوریہ ایران نے تاکید کی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کبھی بھی جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گی اور اس آبی گزرگاہ سے آمد و رفت ایران کی نگرانی اور انتظام کے تحت ہو گی۔

اس سلسلے میں چند گھنٹے قبل پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں ایک جہاز کو وارننگ شاٹ دینے کی خبر دی تھی جو غیر قانونی راستے سے گزر رہا تھا اور بار بار کی وارننگ کو نظر انداز کر رہا تھا۔

Leave a Comment