نگاه نو
اخبار مهمجنگ رمضان

اسلامی جمہوریہ ایران کا وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیے

نگاه نو- ایرانی وفد زیر غور مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی تفہیم کے تحت ذمہ داریوں کے نفاذ کے طریقہ کار کا جائزہ لے گا۔

جمہوریہ اسلامی ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وفد کے روانگی سے قبل تاکید کی کہ اس سفر کا مقصد حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز نہیں، بلکہ فریق ثانی سے اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: “ہر معاہدہ اور تفہیم کی کسوٹی اس کے نفاذ کے وقت ہوتی ہے، اور فریق ثانی کی بد عہدیوں کے تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہمیں نفاذ کے مرحلے پر بہت مضبوطی اور سنجیدگی کے ساتھ مطالبہ کرنا ہوگا۔”

بقائی نے مزید بتایا کہ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا یادداشت تفہیم کی شقوں ۱، ۴، ۵، ۱۰ اور ۱۱ کے تحت ذمہ داریوں کی ادائیگی پر ہے، اور جمہوریہ اسلامی ایران کو اب تک ان ذمہ داریوں کی مکمل ادائیگی نہیں دیکھی گئی۔

جمہوریہ اسلامی ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صہیونی حکومت کے لبنان پر جاری حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حکومت کو جنگ بندی پر مجبور کرنے کا پابند تھا، مگر وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا، اور یہ صورت حال جنگ بندی کی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔

محمد باقر قالیباف، سید عباس عراقچی (وزیر خارجہ)، علی باقری کنی (بین الاقوامی نائب برائے سیکرٹریٹ سپریم کونسل برائے قومی سلامتی)، عبدالناصر همتی (گورنر مرکزی بینک)، حمید بورد (نائب وزیر برائے پٹرولیم اور سربراہ ایرانی قومی پٹرولیم کمپنی)، کاظم غریب آبادی (معاون قانونی و بین الاقوامی وزیر خارجہ) اور اسماعیل بقائی، سوئٹزرلینڈ جانے والے ایران کے وفد کے ارکان ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اس سے قبل الیکٹرانک طریقے سے ایران و امریکہ صدور کی دستخط ہوئی، اور تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نفاذ “ذمہ داری کے بدلے ذمہ داری” کے اصول پر عمل پیرا ہوگا۔

Leave a Comment