نگاه نو- روسی خبرگزاری «تاس» کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر لندن واشنگٹن کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ میں معاونت کرتا ہے تو اس کے علاقائی مفادات مشروع ہدف قرار پائیں گے۔
برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کی منظوری کے بعد تہران نے لندن کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بدھ کی صبح روسی خبرگزاری «تاس» کو بتایا کہ اگر لندن امریکہ کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ میں شامل ہوتا ہے تو مغربی ایشیاء میں برطانوی مفادات ایک جائز فوجی ہدف بن جائیں گے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: “اگر میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم [اینڈی برنہم] کے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شرکت کے فیصلے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو سیاسی اور قانونی اثرات کے علاوہ، برطانیہ کے تمام علاقائی مفادات ایران کی طاقتور مسلح افواج کے اہداف کی فہرست میں شامل کر لیے جائیں گے۔”
«تاس» نے اس ایرانی عہدیدار کے حوالے سے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا، لکھا: “برطانیہ پہلے بھی چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران کی دھمکیوں کا سامنا کر چکا ہے۔”
واضح رہے کہ پیر کی شام بلومبرگ نے رپورٹ دی تھی کہ برنہم نے امریکہ کو اپنے ملک کے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جنہیں لندن ایران کے خلاف ‘دفاعی حملے’ قرار دیتا ہے۔

