سرکاری اطلاعاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق، طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت سید محمد اتابک کا دورۂ اسلام آباد 13 سے 14 مرداد (4 تا 5 اگست 2026) تک جاری رہے گا۔ اس سرکاری دورے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، وزیر صنعت، کان کنی اور تجارت کی پاکستان میں مذاکرات کی مرکزی ایجنڈا 19 اہم نکات پر مشتمل ہے، جن میں ایران اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینا، اشیاء کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنا اور مختلف معاہدوں کا جائزہ لینا شامل ہیں۔
ان مذاکرات میں ٹرانزٹ میں حائل رکاوٹوں اور پاکستان کی بندرگاہوں پر ایرانی کنٹینرز کی منتقلی کو ہموار بنانے پر بھی گفتگو ہوگی۔ وزیر صنعت کے سرحدی لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے دیگر منصوبوں میں “ریمدان–گبد” کی حدود میں سرحدی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، چابہار آزاد زون کے علیحدہ حصے میں پاکستان کی سرحد تک ایک علیحدہ راستہ قائم کرنا اور سڑک ٹرانسپورٹ کو آسان بنانا شامل ہیں۔ بحری شعبے میں بھی گوادر کی بحری سرحد کو ریمدان کی سرحد سے منسلک کرنے اور چابہار اور گوادر کی بندرگاہوں کو ملا کر ریل روڈ راہداری کو فروغ دینے پر کام کیا جائے گا۔
مشترکہ صنعتی پیداوار کو فروغ دینا، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں، تاجروں کے بینکنگ اور مالی مسائل کا حل، تجارتی ویزوں کے اجراء میں آسانی اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کو فعال کرنا ان دیگر اہم نکات میں شامل ہیں جن پر سید محمد اتابک اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان 10 ارب ڈالر کے تجارتی روڈ میپ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے گفتگو کریں گے۔

