نگاه نو
اخبار مهمجنگ رمضان

رہبر انقلاب: ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ امریکی صدر کا دستخط کتنا بے وقعت اور ناقابل اعتبار ہے

نگاه نو- حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنه ای رہبر معظم انقلاب نے ایران کے شہید رہبر کی عظیم الشان تشییع کی حماسہ اور ملکی اہم مسائل کی وضاحت کے سلسلے میں ایک اہم پیام جاری کیا ہے۔

اس پیام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اے عظیم الشان اور حیرت انگیز ملت ایران!

تم پر سلام، درود اور سپاس ہو جنہوں نے ایران کے شہید بزرگوار کی بے مثال اور تاریخی تشییع کی حماسہ میں اپنے اس انوکھے اجتماع کے ذریعے قدر دانی، وفاداری، بصیرت اور امت اسلامی کے قائد اور انقلاب کے شہید رہبر سے بے پناہ محبت کے اظہار میں اسلامی-ایرانی ہویت کے استحکام اور بعثت کے جلووں کا ایک نیا معیار قائم کر دیا۔

تہران، قم، مشہد اور دوسرے شہروں اور دیہاتوں میں کروڑوں افراد کی جمعیت کے جلے ہوئے دلوں کی گرمی، آنسو بھری آنکھیں اور پختہ عزم نے ملت ایران کے دوستوں اور دنیا کے آزاد لوگوں کو تحسین پر مجبور کر دیا اور ایران کی مستکبر دشمنوں کو حیرت، سرگردانی، غصے اور خوف میں مبتلا کر دیا۔

اسی حماسہ کے ساتھ، شیطان اکبر کی ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان ہونے والے مفاہمتی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت سب پر ثابت کر دی کہ امریکی صدر کا دستخط کتنا بے وقعت اور ناقابل اعتبار ہے، اور کہ زبردستی، مکمل طاقت کا حصول اور وحشیگری امریکی مسلک کے لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔

آج شیطان اکبر نے ایک بار پھر اپنا اصلی اور بے نقاب چہرہ ظاہر کر دیا تاکہ ظلم اور بد عہدی کا یہ تاریک تجربہ امریکہ کے جھوٹ، غیر منطقی رویے، ناقابل اعتماد ہونے اور پلیدگی کا ایک اور مضبوط ثبوت بن جائے۔

اب جب امریکی دشمن جنگ افروزی اور بھاری اخراجات اور مزید رسوائی برداشت کرنے پر آمادہ ہے، تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزیز ملت ایران اور جبهۂ مقاومت کے پاس اس کے لیے ایسے سبق ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہوں گے، اور ان کی مثالوں میں حالیہ دنوں میں اسلامی مجاہدین کی بہادری اور جنوبی علاقے کے بہادر لوگوں کی غیرت نے عملی مظاہرہ کیا ہے۔

تم وفادار اور سرفراز ایرانی عوام کو یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس مرحلے میں بنیادی ترین امور میں سے ایک یہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے بلند آرمانوں کے حصول اور عزیز ایران کے عزت و استقلال کو یقینی بنانے، خاص طور پر جنایت کار اور چال باز امریکی دشمن کے مقابلے میں، تمام سطحوں پر عوام اور ذمہ داران کے درمیان کلمۂ اتحاد اور مقدس یکجہتی پر اصرار کیا جائے۔

جیسا کہ پہلے بارہا تاکید کے ساتھ توجہ دلائی جا چکی ہے، اتحاد کی حفاظت اور اختلاف و تنازع، سیاسی تفریق اور سماجی تفاوتوں کو اجاگر کرنے سے گریز ہر ایک کی ذمہ داری ہے، اور بلاشبہ انقلاب، امام اور شہید رہبر کے دلدادہ اور خیر خواہ عناصر اور ذمہ داران کا کردار ملکی ہم آہنگی اور یکجہتی میں زیادہ اہم اور حساس ہے۔

اس بنا پر، عزیز ملت، تینوں قوتوں میں موجود خیر خواہ ذمہ داران پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے، جن کی کوششیں عوام کی خوشحالی اور بہبود کے لیے عیاں ہیں، ایران اسلامی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہوشیار اور میدان میں سرگرم رہے گی۔

ممکن ہے کہ کچھ لوگ خالص نیت اور خیر خواہی کے تحت بعض ذمہ داران کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ میری رائے میں، اگرچہ نظام کے لیے ان کی یہ توجہ اور فکر خود ان کی ذات کی طرح ایک قیمتی سرمایہ ہے اور بذات خود پسندیدہ امر ہے، لیکن ان عزیزان میں سے جو بصیرت کے میدان میں پیش رو ہیں، انہیں چاہیے کہ محتاط رہیں کہ یہ رویہ، اولاً کسی بے گناہ پر ظلم کا باعث نہ بنے جو خود برکات اور عنایات سے محرومی کا سبب بنتا ہے، اور ثانیاً سماجی اتحاد و یکجہتی میں دراندازی کا موجب نہ ہو؛ کیونکہ ان پہلوؤں کی حفاظت کے ساتھ تنقیدیں امور کو فروغ اور ترقی دیں گی۔

دشمن کو ہمیں کمزوری کا کوئی اشارہ نہیں ملنا چاہیے، اور اس کمزوری میں یہ بھی شامل ہے؛ جب ہم ان احتیاطوں کو مکمل طور پر ملحوظ رکھیں گے تو وہ مجبوراً پسپائی اختیار کرے گا۔

ایک بار پھر میں ہر ایک عزیز شہری سے جو خود امت کے شہید باپ کے سوگوار ہیں اور جنہوں نے مشکلات، کچھ حدود اور ناگواریوں کے باوجود ایران کے شہید بزرگوار کی رخصتی کے عظیم واقعے میں تاریخی حماسہ تخلیق کیا، خلوص دل سے قدردانی کرتا ہوں۔

اسی طرح میں معزز مراجع تقلید، علماء، مفکرین اور ماہرین، ثقافتی، سماجی اور سیاسی کارکنوں، اور ملکی و فوجی اداروں کے اقدامات و کوششوں، نیز سرفراز جبهۂ مقاومت اور اسلامی تحریکوں کے عہدیداران اور نمائندگان کی شرکت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ اس تاریخی حماسہ میں ہر وہ شخص جس نے کسی بھی صورت میں شرکت، ہم آہنگی اور ہم دردی کا مظاہرہ کیا، ہمارے آقا، عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، کی خاص عنایت اور دعا کا مستحق ہو۔

سید مجتبی حسینی خامنه‌ای
۲۶ تیر ۱۴۰۵

Leave a Comment