نگاه نو- عمان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ عرب ممالک اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ملاقات جو پیر کو ہونی تھی، ملتوی کر دی گئی ہے۔ بدر البوسعیدی نے اتوار کو بتایا کہ علاقائی ملاقات جوصلالہ میں ہونی تھی، ملتوی کر دی گئی ہے۔
البوسعیدی نے اس موقع پر کہا کہ عمان خطے میں پائیدار استحکام اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہونے والی بات چیت کی حمایت کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ انہوں نے اس ملاقات کی تعویق کی وجہ کے بارے میں کہا کہ صلالہ میں علاقائی ملاقات کو ملتوی کرنے کا مقصد سازگار بات چیت کے لیے مناسب حالات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون قائم کرنے میں ایران کی ہمیشہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا انعقاد اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
بقائی نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تفہیم کو بڑھانے اور مشترکہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
یہ ملاقات ایران، عراق اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی شرکت کے ساتھ پیر کو عمان میں ہونی تھی اور اس میں دیگر علاقائی امور کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کے محفوظ راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے مذاکرات کے نتائج پر بھی بات چیت ہونی تھی۔
بقائی نے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے عارضی راستوں کے بارے میں ایران اور عمان کے درمیان تفہیم کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا پابند ہے، لیکن قدرتی طور پر جب تک امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں اور غیر قانونی مداخلتیں بشمول سمندری ناکہ بندی اور اقتصادی جنگ جاری رہے گی، آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

