نگاه نو
مطالب ویژه

فارسی زبان؛ تاریخ کے ہر طوفان کے بعد بھی زندہ

نگاه نو- ۲۷ شهریور(18 ستمبر) کو تقویم میں فارسی شاعری اور ادب کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہم نے ایران کی تاریخ میں آنے والے ان تمام بڑے طوفانوں اور نشیب و فراز کا جائزہ لیا، جن سے فارسی زبان گزری، لیکن ہر بار زندہ رہی اور آج بھی اس خطے کے لوگوں کی زبان پر موجود ہے۔

کبھی ہم کسی ملک کو اس کی سرحدوں، پہاڑوں، دریاؤں اور نقشے پر موجود شہروں سے پہچانتے ہیں، لیکن کوئی سرزمین صرف وہ نہیں ہوتی جو نقشے پر نظر آتی ہے۔ کسی ملک کی شناخت ان الفاظ میں بھی محفوظ ہوتی ہے جنہیں اس کے لوگ صدیوں سے بولتے آئے ہیں، ان اشعار میں بھی جو نسل در نسل پڑھے جاتے ہیں اور ان کتابوں میں بھی جن کے پرانے حروف آج بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔

اسی لیے ایران بھی صرف نقشے پر نظر آنے والی ایک سرزمین نہیں ہے۔ تاریخ کے دوران یہ خطہ کئی بار بڑی تبدیلیوں کے قریب پہنچا۔ کئی حکومتیں ختم ہوئیں، مشرق اور مغرب سے فوجیں آئیں، شہر تباہ ہوئے، کتب خانے جلائے گئے اور ایسے ادوار بھی آئے جب حکومت اور علم کی زبان کوئی دوسری زبان بن گئی۔

لیکن ان تمام تبدیلیوں کے درمیان فارسی نے اپنا راستہ تلاش کیا اور باقی رہی۔ یہ زبان بالکل پہلے جیسی نہیں رہی اور نہ ہی دوسری زبانوں اور ثقافتوں سے الگ رہی، بلکہ اس نے ان سے بہت کچھ قبول کیا اور اپنی بنیادی شناخت کو برقرار رکھا۔

18 ستمبر کو فارسی شاعری اور ادب کے دن کے موقع پر ہم نے ایران کی تاریخ میں آنے والے بعض بڑے طوفانوں کا جائزہ لیا؛ ایسے طوفان جنہوں نے اس سرزمین کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن فارسی زبان کو جڑ سے ختم نہ کر سکے۔ ایک ایسا درخت جو آج عالمی تاریخ میں ایرانی اور ایران کی شناخت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔

عرب حملہ؛ جب اسلام آیا، لیکن فارسی بھی باقی رہی

ساتویں صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعد ایران اپنی تاریخ کے ایک بڑے دور میں داخل ہوا۔ عرب فوجوں نے اسلام پھیلانے کے مقصد سے ساسانی حکومت کو شکست دی اور چند دہائیوں کے اندر ایران کا ایک بڑا حصہ ان کے زیرِ اقتدار آ گیا۔

یہ صرف سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نیا مذہب بھی ایرانی معاشرے میں داخل ہوا اور رفتہ رفتہ ایران کی بڑی آبادی مسلمان ہو گئی۔

تاہم اس بڑے تاریخی موڑ کے ساتھ ایک اہم بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اسلام اور عرب فاتحین کے بعض اقدامات میں فرق کیا جائے۔ فاتح فوج کا مسلمان ہونا اس بات کا مطلب نہیں تھا کہ ان کے حکمرانوں کی ہر پالیسی اور ہر اقدام اسلام کی اصل تعلیمات کے عین مطابق تھا۔

ایران کی فتح سے متعلق تاریخی روایات میں بعض جنگی طریقوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں امیرالمومنین حضرت علیؑ نے پسند نہیں کیا۔ اسی وجہ سے حضرت علیؑ اور حسنین کریمینؑ ان فوجی مہمات میں شریک نہیں ہوئے اور یہ فتوحات پہلے خلفاء کے دور میں ہوئیں۔

بعد میں ایرانی عوام نے اسلام کی حقیقی تعلیمات اور امیرالمومنین حضرت علیؑ کے طرزِ عمل سے متاثر ہو کر اسلام کو قبول کیا۔ یہاں تک کہ اسلام ایرانی معاشرے میں اس قدر جڑ پکڑ گیا کہ ایرانی صرف نئی ثقافت کو قبول کرنے والے نہیں رہے بلکہ انہوں نے اسلامی تہذیب کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

اسی دوران ایرانیوں نے نئے مذہب کو قبول کرنے کے ساتھ اپنی بہت سی ثقافتی اور سماجی روایات بھی برقرار رکھیں۔ فارسی زبان بھی انہی عناصر میں شامل تھی۔

عربی قرآن، دینی علوم اور ایک عرصے تک سرکاری اور علمی معاملات کی اہم زبان بن گئی، لیکن وہ فارسی کو عوام کی روزمرہ گفتگو سے ختم نہیں کر سکی۔

اس عرصے کے دوران فارسی میں دو صدیوں سے زیادہ عرصے تک تبدیلیاں آئیں اور یہ ’’نئی فارسی‘‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے بعد سامانی دور میں فارسی ایک بار پھر شاعری، تاریخ اور ثقافت کی مضبوط زبان بن گئی۔

درحقیقت ایرانیوں نے نہ تو ہر نئی چیز کی مخالفت کی اور نہ ہی اپنے تمام ماضی کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے نئی چیزوں کو اپنی ثقافت کے ساتھ ملایا اور اسی امتزاج سے ایرانی اور اسلامی شناخت کی ایک نئی شکل وجود میں آئی۔

سامانیوں اور غزنویوں سے فردوسی کے ظہور تک

کئی صدیوں بعد سامانی دور میں فارسی کو ایک نئی زندگی ملی۔ بخارا میں سامانی حکمرانوں کا دربار فارسی شاعری اور ثقافت کے فروغ کا ایک اہم مرکز بن گیا۔

اسی ماحول میں رودکی نے شاعری کی اور ایران کی رزمیہ روایات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنیں۔ فردوسی سے پہلے شاعر دقیقی نے بھی شاہنامہ لکھنے کا کام شروع کیا تھا، جس کے بعد فردوسی نے اسے آگے بڑھایا۔

فردوسی نے شاہنامہ کا آغاز سامانی دور کے آخری زمانے میں کیا اور اسے غزنوی دور میں مکمل کیا۔ یہ کتاب صرف پرانی کہانیوں کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ اس میں ایران کے افسانوں، بہادروں، بادشاہوں اور تاریخی یادوں کو فارسی کی ایک عظیم کتاب کی شکل میں آنے والی نسلوں تک پہنچایا گیا۔

اسی لیے جب معروف مصری مصنف اور صحافی محمد حسنین ہیکل سے پوچھا گیا کہ مصر اپنی عظیم تہذیبی تاریخ کے باوجود عربی زبان والا ملک کیوں بن گیا تو ان سے منسوب ایک مشہور جواب نقل کیا جاتا ہے: ’’کیونکہ ہمارے پاس فردوسی نہیں تھا۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ غزنوی خود ترک نسل سے تعلق رکھنے والا خاندان تھا، لیکن اس نے سامانی دور میں فروغ پانے والے فارسی ادب کی سرپرستی جاری رکھی۔

بعد میں جب سلجوقی ایران میں داخل ہوئے تو انہیں ایک ایسی زبان کا سامنا تھا جو ادب اور سرکاری امور میں اپنا مقام بنا چکی تھی۔ چنانچہ سلجوقی حکمران طبقہ بھی رفتہ رفتہ اس زبان سے ہم آہنگ ہو گیا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فارسی صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں تھی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے فاتحین کو بھی اپنی بقا کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

جب ایرانی ثقافت نے منگول فاتح کو رصدگاہ بنانے والا بنا دیا

ایران کی تاریخ میں شاید ہی کوئی حملہ منگول حملے کی طرح تباہی اور قتل و غارت سے جڑا ہو۔ شہر تباہ ہوئے، کتب خانے جلائے گئے، بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے یا اپنے علاقوں سے بے گھر ہوئے اور خوارزم شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

لیکن چند دہائیوں بعد اسی سرزمین پر، جسے منگول فوج نے فتح کیا تھا، فارسی ایک بار پھر تاریخ نویسی، ادب اور سرکاری امور کی اہم زبان بن گئی۔

منگول اور ایلخانی دور میں فارسی میں بڑی تاریخی اور ادبی کتابیں لکھی گئیں اور منگول حکومت بھی رفتہ رفتہ ایران کے ثقافتی ماحول کا حصہ بن گئی۔

یہ ایران کی تاریخ کے عجیب ترین ابواب میں سے ایک سمجھا جا سکتا ہے۔ جو حملہ آور تلوار لے کر آیا تھا، وہ آخرکار اسی تہذیب کا حصہ بن گیا جسے اس نے فتح کیا تھا۔

منگولوں نے ایران کو تبدیل کیا، لیکن ایران نے بھی منگولوں کو تبدیل کیا، یہاں تک کہ ایرانی علم اور ادب نے منگول حکمرانوں کو رصدگاہیں بنانے والے حکمرانوں میں تبدیل کر دیا۔

جب سوویت حکومت نے آذربائیجان اور تاجکستان کے رسم الخط کو تبدیل کیا

20ویں صدی میں صورت حال نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ اس بار کسی قوم کو اس کے ماضی سے دور کرنے کے لیے لازمی نہیں تھا کہ فوج کشی کی جائے، بلکہ رسم الخط تبدیل کرنا بھی ایک ذریعہ بن سکتا تھا۔

تاجکستان میں، جہاں تاجیکی زبان فارسی کی ایک شاخ ہے، سوویت حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں لکھنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

1928 میں فارسی رسم الخط ختم کر کے لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا اور 1940 میں لاطینی کی جگہ سیریلک رسم الخط نافذ کر دیا گیا۔

یہ تبدیلی سوویت حکومت کی قومیت، تعلیم اور مذہب کے اثر کو محدود کرنے سے متعلق وسیع پالیسیوں کے ساتھ کی گئی۔ معاملہ صرف حروف کی شکل بدلنے تک محدود نہیں تھا۔

رفتہ رفتہ ایسی نسل سامنے آئی جو اپنے والدین اور دادا دادی کی فارسی رسم الخط میں لکھی ہوئی کتابیں آسانی سے نہیں پڑھ سکتی تھی۔ بعض ادوار میں فارسی رسم الخط کی نجی تعلیم پر بھی سوویت حکومت کی جانب سے پابندیاں اور کارروائیاں کی گئیں۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سوویت آذربائیجان میں عربی رسم الخط کو 1925 میں ختم کیا گیا، اس کی جگہ لاطینی رسم الخط لایا گیا اور 1939 میں لاطینی کی جگہ سیریلک رسم الخط نافذ کر دیا گیا۔ یوں 1925 سے 1958 کے درمیان اس خطے میں کئی مختلف تحریری نظام آزمائے گئے۔

جب ترکی نے عثمانی رسم الخط کی جگہ لاطینی رسم الخط اختیار کیا

ترکی میں بھی جمہوریہ کے قیام کے بعد 1928 میں لاطینی حروف نے عثمانی رسم الخط کی جگہ لے لی۔

یہ تبدیلی نئی جمہوری حکومت کی جانب سے معاشرے کو جدید بنانے اور عثمانی دور کے نظام سے دوری اختیار کرنے کے لیے کی جانے والی وسیع اصلاحات کا حصہ تھی۔

اس کے نتیجے میں ترکی زبان کا سلسلہ جاری رہا، لیکن عثمانی دور کے تحریری ورثے کے ایک بڑے حصے کو پڑھنے کے لیے آنے والی نسلوں کو الگ سے تعلیم حاصل کرنا پڑی۔

یہ بات اہم ہے کہ رسم الخط کی تبدیلی لازمی طور پر کسی زبان کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی، لیکن یہ نئی نسل اور پچھلی نسلوں کے تحریری ورثے کے درمیان فاصلے کو بڑھا سکتی ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج تاجکستان کے لوگ، جو ایران کی ثقافتی سرزمین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ہماری زبان کی ایک شکل بولتے ہیں، فارسی رسم الخط میں ایک سادہ جملہ ’’بابا آب داد‘‘ بھی نہیں پڑھ سکتے۔

اس کا مطلب ایک بڑے ثقافتی ورثے کے ساتھ اپنے تعلق سے دور ہونا ہے، ایسا ورثہ جو قومی شناخت کی ایک اہم علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہندوستان؛ جہاں برطانوی حکومت نے فارسی کو سرکاری دفتروں سے ہٹا دیا

یہ کہانی صرف وسطی ایشیا تک محدود نہیں ہے۔ فارسی صدیوں تک برصغیر میں ایک اہم سرکاری اور ثقافتی زبان رہی۔ درباروں اور حکومتی اداروں میں بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔

برطانوی اقتدار کے پھیلاؤ کے ساتھ اس حیثیت میں تبدیلی آئی۔ 1830 کی دہائی میں برطانوی زیرِ انتظام سرکاری نظام میں فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی۔

اس طرح وہ زبان جو صدیوں تک ہندوستان کے سرکاری دفتروں میں استعمال ہوتی رہی تھی، اپنی سرکاری حیثیت سے محروم ہو گئی۔ تاہم فارسی نے ادبی اور ثقافتی زبان کی حیثیت سے اپنا سفر جاری رکھا، لیکن وہ سرکاری اداروں کی بنیادی زبان نہیں رہی۔

فارسی کے باقی رہنے کا راز کیا تھا؟

شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسے ایران میں، جو مسلسل بیرونی حملوں کی زد میں رہا، فارسی اتنے طویل عرصے تک کیسے زندہ رہی؟ اتنی جنگوں اور غیر ملکی حکومتوں کے باوجود فارسی کیوں باقی رہی؟

ماہرین کے مطابق اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں، کیونکہ فارسی کا باقی رہنا کسی ایک واقعے یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ فارسی نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت برقرار رکھی۔ اس نے عربی، ترک اور دوسری زبانوں کے بہت سے الفاظ قبول کیے، لیکن اپنی ساخت اور بنیادی شناخت کو ختم نہیں ہونے دیا۔

دوسری اہم وجہ ادب کی طاقت تھی۔ فارسی شاعری صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ تاریخی اور ثقافتی یادوں کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بھی تھی۔

فردوسی سے سعدی اور حافظ تک فارسی زبان شاعری اور کہانیوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک پہنچی اور نسل در نسل، زبان سے زبان تک، ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی گئی۔

دوسری طرف غیر ایرانی حکمرانوں نے بھی جب ایران میں حکومت قائم کی تو اکثر اس زبان کو ختم کرنے کے بجائے سرکاری امور اور ثقافت کے لیے استعمال کیا۔

فارسی ’’ایک قوم کی زبان‘‘ سے آگے بڑھ کر ایران کی وسیع ثقافتی دنیا کے ایک بڑے حصے کی مشترکہ زبان بن گئی۔ اسی لیے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فارسی کے باقی رہنے کی سب سے اہم وجہ اس زبان میں موجود لچک ہے۔ فارسی نے زندہ رہنے کے لیے خود کو تبدیل کیا، لیکن تبدیل ہوتے ہوئے اپنی شناخت کو فراموش نہیں کیا۔

فارسی کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ کسی قوم کی آزادی صرف نقشے تک محدود نہیں ہوتی۔ کسی ملک کے لیے اس کی علاقائی سالمیت یقیناً اہم ہے، لیکن کسی قوم کی شناخت صرف اس کی سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتی۔

زبان اس ثقافتی آزادی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو ایک قوم کے تجربات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتا ہے۔

جنگیں آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ حکمران آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں کے رہن سہن کے انداز بھی بدل جاتے ہیں۔

لیکن آخرکار وہ چیز جو نسلوں کے درمیان تعلق قائم رکھ سکتی ہے، وہی ہے جس کے ذریعے لوگ روزانہ بات کرتے ہیں، اپنے بچوں کو کہانیاں سناتے ہیں اور اپنی یادیں تحریر کرتے ہیں۔

فارسی بھی ایسی ہی زبان ہے جو صدیوں سے مختلف طوفانوں سے گزرتی ہوئی آج تک زندہ ہے۔ آج بھی اس زبان کے ذریعے ماضی کو پڑھا جا سکتا ہے، مستقبل کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے اور ایرانی شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment