نگاه نو
اخبار روزجنگ رمضان

امریکی شہپادوں کا بحرین میں واقع ڈپو تباه

نگاه نو- پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن نصر ۲ کی پچیسویں لہر کے دوران امریکی شہپادوں (بغیر عملہ بحری جہازوں) کا بحرین میں موجود ڈپو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور ان میں سے بڑی تعداد آگ میں جل گئی۔ اس کے علاوہ بحرین کا اصلی مرکز برائے مصنوعی ذہانت، جو شیطان بزرگ کے ذریعہ جنگی جرائم کے ارتکاب میں دشمن کی نشانہ زنی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، متعدد بیلسٹک میزائلوں اور درجنوں ڈرون طیاروں کے ذریعے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔

سپاہ نیوز کے مطابق، پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے آپریشن نصر ۲ کے پچیسویں اعلامیہ میں درج ذیل بیان جاری کیا:

بسم اللہ قاصم الجبارین
“فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم”

ایران کی مجاہد اور ناقابل تھک عوام،

جس وقت آپ حکمت عملی کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہیں، آپ کے غیرت مند بیٹے سپاہ کے بحری اور فضائی افواج میں اپنی کامیاب کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ شب امریکی دہشت گرد اور وحشی فوج نے ایک بار پھر جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے متعدد پلوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔

ان جرائم کے جواب میں، آپریشن نصر ۲ کی سترہویں لہر میں مقدس رمز “یا صاحب الزمان ادرکنی” کے تحت آج صبح سویرے امریکی شہپادوں کا بحرین میں موجود ڈپو تہس نہس کر دیا گیا اور ان میں سے بڑی تعداد آگ میں جل گئی۔

اس کے علاوہ بحرین کا مرکزی مرکز برائے مصنوعی ذہانت، جو شیطان بزرگ کی طرف سے جنگی جرائم میں دشمن کی نشانہ زنی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، متعدد بیلسٹک میزائلوں اور درجنوں ڈرون طیاروں کے ذریعے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔

امریکی بچہ کش حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس نے پلوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو اللہ کی مدد سے اب سے علاقے میں جہاں بھی امریکی سرمایہ دار کمپنیوں کے صنعتی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اہم ترین اثاثے ہوں گے، انہیں تہس نہس کر دیا جائے گا اور امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک میں امریکی کمپنیوں کی قیمتی ترین سرمایہ کاری کو زمین بوس کر دیا جائے گا۔

علاقے میں امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک ان جنگی جرائم میں شریک سمجھے جائیں گے۔

وماالنصر الا من عندالله العزیز الحکیم

Leave a Comment