نگاه نو- امریکی وزیر دفاع پیت ہیگستھ نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ واشنگٹن نے شروع نہیں کی بلکہ تہران نے یہ جنگ 47 برس قبل شروع کی تھی۔
امریکی وزیر دفاع پیت ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جان ڈینیئل کین نے منگل کی شب سینیٹ کی بجٹ مختص کمیٹی کے سماعتی اجلاس میں شرکت کی تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے لیے اربوں ڈالرز کی تکمیلی بجٹ کی درخواست کا دفاع کر سکیں۔
ہیگستھ نے امریکی سینیٹرز کے سخت سوالات کے جواب میں دعویٰ کیا کہ اس فوجی مہم پر امریکہ کو صرف 37.5 ارب ڈالرز لاگت آئی ہے۔
ان سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ کیا روس اور چین ایران کی مدد کر رہے ہیں، انہوں نے کہا: “ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک مختلف سطحوں پر ایران کے بعض اقدامات کو ممکن بنا رہے ہیں، جی ہاں۔”
امریکی سابق فوجی افسر نے ایرانی عوام کے خلاف بدتمیزی اور توہین آمیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کوشش اور ہمت کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دیوانہ وار اسلام پسندوں کو ایٹمی ہتھیار تک رسائی حاصل کرنے سے روکا۔
ہیگستھ نے ایران میں عام شہریوں اور غیر فوجی ڈھانچے کے خلاف غیر قانونی اور وحشیانہ حملوں کو جائز ثابت کرنے کے لیے کہا: “کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتہاپسند اسلام پسندوں کے پاس ایٹم بم ہو جو دنیا کو تباہ کر سکے؟”
انہوں نے امریکی حملوں کی ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: “میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان کے پاس اب بھی بلاشبہ صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن ہم نے انہیں جو نقصان پہنچایا ہے اس نے انہیں بدترین حالت میں ڈال دیا ہے۔”
امریکی دہشت گرد وزیر دفاع نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پہاڑ کے نیچے موجود ہر چیز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کہا: “ہماری بہت سی صلاحیتیں خفیہ ہیں۔”
اسی دوران جنگ مخالف مظاہرین نے ہیگستھ کے بیانات کو روکتے ہوئے نعرے لگائے: “ایران اور فلسطین میں بچوں پر بمباری بند کرو!”
ہیگستھ نے پھر دعویٰ کیا: “لیکن اگر دنیا میں کوئی بھی زمین پر موجود کسی چیز تک پہنچ سکتا ہے تو وہ امریکی فوج ہے۔”
انہوں نے اپنی مضحکہ خیز اور بے بنیاد باتوں کو جاری رکھتے ہوئے کہا: “ہم نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ ایران نے یہ جنگ 47 برس قبل شروع کی… ہم دوبارہ بیوقوفانہ جنگوں میں ملوث نہیں ہیں۔ ہم نے ایرانی معاشرے کی تشکیل نو کی کوشش نہیں کی۔”
امریکی افسر نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہوں نے ایران کے تمام جہازوں اور بندرگاہوں پر مؤثر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے، کہا: “ہم نے ان کی تیل برآمدات روک دی ہیں۔ ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہم یہ ناکہ بندی برقرار رکھ سکتے ہیں۔”
ہیگستھ نے ایرانی بحریہ کی سرگرمیوں کے بارے میں سوال سے گریز کرتے ہوئے اعتراف کیا: “ہم ایرانی ہر تیز رفتار کشتی، ہر مشین گن سے لیس کشتی یا ہر کروز میزائل کو تباہ نہیں کر سکتے۔”
انہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایران آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کرتا، کہا: “جو لوگ جہازوں پر فائر کریں گے انہیں زبردست طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم نے یہ عمل مسلسل 10 راتوں تک کیا ہے۔”
امریکی بدتمیز وزیر دفاع نے اپنی وہمی باتوں میں مزید کہا: “ایٹمی تنصیبات تباہ کر دی گئیں، لیکن ایرانیوں نے احمقانہ طور پر ایٹمی صلاحیتوں کے حصول کی کوشش جاری رکھی۔”
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک سینیٹر کے سوال کے جواب میں کہ کیا انہوں نے ایران میں پانی صاف کرنے کے پلانٹس پر حملہ کیا ہے، کہا: “مجھے اس بات کی اطلاع نہیں کہ یہ تنصیبات اہداف میں شامل تھیں۔”
جنرل کین نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: “ایران کے پاس خطے میں خطرہ جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔”

